#ffffff#81d742#eeee22

مرکزی خیال ماخوذ نظمیں

کس قدر ہم ہیں غریب

کس قدر ہم ہیں غریب

 

 

(ماخوذ)

ارشاد عرشی ملک

 arshimalik50@hotmail.com

 

اک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دولت مند باپ

نو جواں بیٹے کو اپنے ، لے کے نکلا گھر سے آپ

 

زندگی کے رنگ تا اس کو دکھائے سب کے سب

فرق غربت اور امارت کا بتائے سب کے سب

 

تا وہ لڑکا جان لے کہ لطف و آسائش ہے کیا؟

کس […]

Rate: 0

عرفان ٹہنی چھوڑ دے

عرفان  !  ٹہنی چھوڑ دے

 

(مرکزی خیال،ماخوذ)

 

ارشاد عرشی ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

 

نظم یہ ظاہر میں ہے ، پر در حقیقت آئینہ

جو بھی چاہے اس میں صورت دیکھ لے اپنی ذرا

…………………………………

اِک دفعہ کا ذکر ہے اِک آدمی عرفان تھا

راہِ عرفانی سے پر ناواقف و انجان تھا

 

سیر کا شوقین تھا کوہ و دمن میں گھومتا

تھا کبھی جنگل کبھی […]

Rate: 0

اکیسویں صدی کا المیہ

اکیسویں صدی کا المیہ

 

ارشاد عرشیؔ ملک

 

 

جی رہے جس میں ہم یہ اِک انوکھا دور ہے

نفسی نفسی کا گلی کوچوں میں بے حد شور ہے

 

جلد بازی ہر طرف صبر و سکوں ناپید ہے

نفس کے زندان میں ، آزاد انساں قید ہے

 

پُر تکلف ہیں مکاں ، گھر ہیں مگر ٹوٹے ہوئے

شوہر و بیوی ہوں یا بھائی […]

Rate: 0