#ffffff#81d742#eeee22

مذہب کے نام پر ہونے والے مظالم کے بارے میں نظمیں

مخمصہ

اک قیامتِ صغریٰ ، تھی وہ دوپہر کالی

زخم بن کے رِستی ہے کب ہے بھولنے والی

تھی مئی کی اٹھائیس اور دن جمعے کا تھا

یک بیک مساجد میں شور سا ہوا برپا

گولیوں کی تڑ تڑ میں گر رہی تھیں جب لاشیں

بے گناہ جسموں کی ہو رہی تھیں جب قاشیں

جب سسکتے لوگوں پر دوپہر وہ بھاری […]

Rate: 0

خاموش رہے

ہر سُو تھا انجانا ڈر خاموش رہے

شہر کے سارے دانش ور  خاموش رہے

 

اپنی اپنی غرض و انا کے قیدی تھے

اس کارن سب اہلِ نظر  خاموش رہے

 

سچ کہنا تو زہر پیالہ پینا تھا

سارے کر کے اگر مگر  خاموش رہے

 

قوم پھنسی تھی ظلم و جہل کی دلدل میں

دڑ وٹ کر لیکن رہبر خاموش رہے

 

ظلم کے ساتھی […]

Rate: 0

فقیہہِ دیں کے لب پر طعنہ و دشنام دیکھے ہیں

فقیہہِ دیں کے لب پر طعنہ و دشنام دیکھے ہیں

نئے ہر دور میں ہم نے نئے آلام دیکھے ہیں

 

کبھی کافر ،کبھی دجّال ٹھہرایا گیا ہم کو

بہت سے نام رکھوائے ،بہت الزام دیکھے ہیں

 

بہت دھبے ہیں ان کے دامنوں پر خونِ ناحق کے

بہت سے لوگ جو باندھے ہوئے احرام  دیکھے ہیں

 

جبینوں پر نشاں سجدوں کے […]

Rate: 0

خُدایا ہم کو رکھ ثابت قدم ،ہم صبر کرتے ہیں

خُدایا ہم کو رکھ ثابت قدم ،ہم صبر کرتے ہیں

(دنیا بھر میں احمدیوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے حوالے سے ایک تازہ نظم)

 

گِلا ہے نہ شکایاتِ ستم ہم صبر کرتے ہیں

وقارِ صبر کی ہم کو قسم ہم صبر کرتے ہیں

کوئی جب دل دُکھاتا ہے لبوں کو بھینچ لیتے ہیں

اگر چہ آنکھ ہو […]

Rate: 0

مجھے رونا ہے

ضبط پر اب نہیں تیّار ، مجھے رونا ہے

دل ہے آمادہِ تکرار ، مجھے رونا ہے

مرے مولا مرے دلدار ، مجھے رونا ہے

مرغِ بسمل ہے دلِ زار  ، مجھے رونا ہے

ضبط ایسا تھا کہ خلوت میں بھی آنسو نہ بہے

آج لیکن سرِبازار ، مجھے رونا ہے

زخم ناسور بنے جاتے ہیں گُھٹ کر دل میں

یہ […]

Rate: 0