ہم خوش نصیب ہیں کہ خلافت نصیب ہے

 

   احمدیت کے معاندین سے خطاب

 

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد پاکستان

 

arshimalik50@hotmail.com

 

کب منتشر دلوں کو امامت نصیب  ہے

اک دوسرے سے بغض و عداوت، نصیب ہے

 

تم ایک بھیڑ بھاڑ کی صورت ہو مجتمع

نہ رہنما ،نہ کوئی قیادت ،نصیب  ہے

 

سو سال حق سے دست و گریباں رہے ہو تم

کثرت کے باوجود بھی خفت، نصیب  ہے

 

دشمن ہوئے مسیؑح کے پھر ایک بار تم

بے شک تمہں  یہود کی خصلت، نصیب ہے

 

پھونکوں سے تم، بجھا نہ سکے اس چراغ کو

روشن ہے اک جہاں تمہں  ظلمت ،نصیب ہے

 

فتوے بغیر علم کے، دیتے ہو رات دن

خوفِ خدا ،نہ فہم و فراست، نصیب  ہے

 

تقویٰ کا اک لباس تھا ،جو چتھڑ ے ہوا

اب خود کُشی کے واسطے جیکٹ نصیب ہے

 

اسلام کو جہان میں ، بدنام کر دیا

اب دینِ حق کو ٹھپہ ِ دہشت نصیب ہے

 

کثرت کا کیا غرور ،جو دل ہوں پھٹے ہوئے

کب ایک  ڈیڑھ اینٹ کو ،برکت نصیب ہے

 

جبے امامے رہ گئے ایمان تو گیا

اب تم کو صرف دیں کی تجارت نصیب ہے

 

آو کہ آج سود و زیاں کی پرکھ کریں

عزّت کسے ملی ،کسے ذلت نصیب ہے

 

ہر پل غرورِ نفس میں جکڑے ہوئے ہو تم

کب عجز و انکسار کی عادت ،نصیب ہے

 

مہدؑی کے ہم غلام ہیں پہچان ہے یہی

کچھ غم نہیں ،جو ہم کو ملامت نصیب  ہے

 

ہم متحد ہیں، ایک جماعت کے روپ میں

ہم خوش نصیب ہیں کہ خلافت نصیب  ہے

 

ہم لوگ دیکھتے ہیں ،اشارہ امام کا

ہر مرد و زن کو شوقِ اطاعت نصبب ہے

 

کشتی میں اپنے نوحؑ کی ،بٹھے  ہیں چین سے

مد و جزر میں ہم کو ،حفاظت نصیب  ہے

 

ہم پر خدا کے فضل کا سایہ ہے ہر گھڑی

جس سمت رُخ کیا ہمیں نصرت نصیب  ہے

 

ہر آن دیکھتے ہیں نشاں پر نشان ہم

تازہ تجلّیات کی نعمت نصیب  ہے

 

ہاں راہِ مستقیم سے چمٹے ہوئے ہیں ہم

صد شکر ہم کو یہ بھی کرامت نصیب ہے

 

چھلکا تمہارے پاس شریعت کا رہ گا

ہم کو مغز ملا ہمیں لذت نصیب ہے

 

صدقِ و صفا سے ،اپنی مزّین ہے داستاں

کذب و ریا کی تم کو غلاظت نصیب ہے

 

ترکش میں اپنے علم و دلائل کے تیر ہیں

زنبیل کو تمہاری جہالت نصیب ہے

 

فرعون و بو جہل کے رہے ہم رکاب تم

اور ہم کو مصطفیٰؐ کی رفاقت نصیب  ہے

 

سب برّ اعظموں میں ،جڑیں اپنی گڑ گئیں

حسرت تمہںِ ،تو ہم کو وجاہت نصیب ہے

 

برکت جو ایم ٹی اے کی ہے خیرِ کثیر ہے

تم گھُٹ کے رہ گئے ہمیں کثرت نصیب ہے

 

نفرت کی جھاگ منہ سے اُڑاتے ہو رات دن

میدانِ بغض و کیں  میں مہارت نصیب ہے

 

خطبے تمہارے کتنے ’’  فصیح و بلیغ  ‘‘ ہیں

کیا خوب لغویات میں نُدرّت نصیب ہے

 

ہم نے مغّلظات بھی سن کر دعائیں دیں

یہ حوصلہ نصیب، یہ وسعت نصیب  ہے

 

اپنا نسب یہ ہے ،کہ محمد ؐ کے ہیں غلام

تم کو ابو لہب سے قرابت نصیب  ہے

 

ہم نے جفا سہی ہے مگر کی نہیں جفا

خُلقِ محمدیؐ سے شباہت نصیب ہے

 

سلطان تھا ،قلم کا زباں کا ،مرا مسیؑح

اس کے مخالفین کو لُکنت نصیب  ہے

 

میں حضرتِ مسیؑح کی ادنیٰ کنیز ہوں

اس واسطے زبان کو شوکت نصیب  ہے

 

نوکِ قلم سے چاہوں تو بخیے ادھیڑ دوں

اللہ کے کرم سے یہ طاقت نصیب ہے

 

پر کیا  کروں کہ صبر کی تلقین ہے مجھے

مُرشد کی مجھ کو پاک ہدایت نصیب ہے

 

عورت سہی پہ عزم میں مردوں سے کم نہں

عرشیؔ مجھے بھی شوقِ شجاعت نصیب ہے

 

للکار میری رُک نہں  سکتی حجاب میں

مہدؑی کے نام پر مجھے غیرت نصیب ہے

 

مہدؑی کی چاکری ہی مرا افتخار ہے

بس اس لئے زباں کو سلاست نصیب  ہے

 

میں خود پہ جبر کر کے قلم روکتی ہوں اب

آمد ہے گو بلا کی، خطابت نصیب ہے

Rate: 0