ہدیہ

 

ارشاد عرشی ؔملک اسلام آباد پاکستان

arshimalik50@hotmail.com

 

تمنا تھی بہت دل میں رضا رب کی کما جاؤں

کسی بھی طور سے آقا کی نظروں میں سما جاؤں

 

تجلّی مجھ پہ ہو ایسی کہ بن کر طُور جل جاؤں

میں اُس درگاہ میں جاؤں تو اپنے سر کے بل جاؤں

 

خیال آیا کہ لے جاؤں کوئی نایاب سا تحفہ

کہ اُس دربار کے شایاں کوئی کمیاب سا تحفہ

 

تھا دل جذبات سے بوجھل لرزتا تھا مرا تن من

کہا میں نے مرے آقا مرے پیارے مرے محسن

 

درِ اقدس میں تیرے باریابی کس طرح پاؤں؟

ترے دربار میں آؤں تو میں کیا نذر لے آؤں؟

 

وہ ہدیہ کیا ہو اے مالک جو تیرے من کو بھا جائے

ترے شایانِ شاں ہو،اور مری قسمت جگا جائے

 

کہا۔۔وہ چیز لے آنا ،نہیں ہے پاس جو میرے

وہ ہدیہ جگمگا ڈالے گا کھوٹے بھاگ کو تیرے

 

کہا میں نے وہ کیا ہے جو نہیں تیرے خزانوں میں

سبھی کچھ ہے ترا جو ہے زمینوں آسمانوں میں

 

کہا۔۔اک شئے نہیں ہے پاس میرے اس کی حاجت ہے

اُسی ہدیے کی اس دربار میں بس قدر و قیمت ہے

 

وہ تحفہ لے کے جو آئے میّسر اُس کو سبقت ہے

وہی شایانِ شاں بندے کے ہے اُس کی سعادت  ہے

 

وہ ہدیہ کیا ہے؟مسکینی ہے محتاجی ہے ذلت ہے

غریبی ،بے کسی ہے، عجز ہے ، اشکِ ندامت ہے

درِ محبوب پر عرشیؔ بہت رونے کی عادت ہے

Rate: 0