گدھے کی دانش مندی

 

(مرکزی خیال، ماخوذ)

 

ارشاد عرشی ؔملک اسلام آباد

 

اِک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دہقاں کا گدھا

شُومئیِ قسمت سے اِک گہرے کنویں میں گر گیا

وہ بہت گھبرا گیا رہ رہ کے چِلانے لگا

ڈھینچوں ڈھینچوں کر کے دل مالک کا دہلانے لگا

گو محبت تھی بہت دہقان کو اس سے مگر

اس کو باہر کھینچ لانا تھا بہت مشکل امر

الغرض دہقان نے سوچا کہ بوڑھا ہے گدھا

اور بے چارہ بہت مشکل میں بھی ہے مبتلا

کس طرح اس کو سسکنے کے لئے میں چھوڑ دوں

پاٹ کر کیوں نہ کنوآں ، اُمید اپنی توڑ دوں

……………………………………

اُس نے سارے گائوں کو اپنے لیا عرشیؔ بُلا

تا مدد سے سب کی اسِ مشکل سے ہو جائے رہا

اس مہم میں جُت گئے وہ بیلچے لے کر سبھی

تا کہ اس گہرے کنویں کو پاٹ دیں فوراً ابھی

ابتدا میں جب گدھا سمجھا یہ سارا ماجرا

اپنے زندہ دفن ہونے سے وہ بے چارہ ڈرا

اُس نے اوّل آہ و زاری سے کیا محشر بپا

ایک سناٹا کنویں میں آخرش پھر چھا گیا

…………………………………

غم زدہ  دہقان نے دیکھا جو نیچے  جھانک کر

رہ گیا ششدر ، عجب منظر اسے آیا نظر

ڈھیر مٹی کا گدھے کی پیٹھ پر گرتا تھا جب

وہ بہت پھرتی سے مٹی جھاڑ دیتا سب کی سب

اور اس مٹی پہ اپنے پیر رکھ دیتا تھا وہ

اس طریقے سے ذرا اُوپر سرک آتا تھا وہ

جب تلک پڑتی رہی مٹی ، یہی کرتا رہا

اور بھرتے ہی کنوآں ، یک لخت باہر آگیا

سبق

خاک جب دشواریوں کی ڈھانپ لے انسان کو

چاہیے کہ کھو نہ دے گھبرا کے وہ اوسان کو

 

دفن کر دے گی وگرنہ ، مشکلوں کی خاک اُسے

کچھ گدھے سے بڑھ کے ہونا چاہیے چالاک اُسے

 

روند کر دشواریوں کو راہ کی آگے بڑھے

چاہیے کہ ہر قدم اس کا بلندی پر پڑے

 

ہے گدھے سے بڑھ کے دانش حضرتِ انسان کی

قدر کرنی چاہیے اس نعمتِ یزدان کی

……………………

 

 

Rate: 0