کیا کرتے

 

ارشاد عرشی ملک

 

تُم سے قول و قرار کیا کرتے

عمر کا اعتبار کیا کرتے

زخم تھے بے شمار کیا کرتے

ایک دو غم گُسار کیا کرتے

مانگ سکتے نہ چھین سکتے تھے

ہم تھے اہلِ وقار کیا کرتے

اُن کے لہجے میں سرد مہری تھی

التجاء بار بار کیا کرتے

اُن کے قدموں میں رکھ دیا سر کو

اور اب انکسار کیا کرتے

اختیار ان کو سونپ کر سارا

ہم تھے بے اختیار کیا کرتے

آپ آندھی تھے آپ طوفاں تھے

ہم تھے مُشتِ غُبار کیا کرتے

یک رنگی بوجھ تھی طبیعت پر

اِک خطا بار بار کیا کرتے

عشق میں بھی جو لوگ تھے محتاط

زیست دیوانہ وار کیا کرتے

فُرقتوں میں جو دن کٹے اُن کو

زندگی میں شُمار کیا کرتے

دفعتاً تھا عذاب نے گھیرا

لوگ چیخ و پکار کیا کرتے

اُن کے لہجے میں بھی ندامت تھی

ہم بھی تھے شرم سار کیا کرتے

ہم بھی جلدی میں تھے ہمیشہ سے

آپ کا انتظار کیا کرتے

یاد کرتے رہے مکینوں کو

اور اُجڑے دیار کیا کرتے

دل کے سودے تو نقد ہوتے ہیں

ہم یہاں بھی اُدھار کیا کرتے

اپنے گننے کو زخم کافی تھے

ہم ستارے شُمار کیا کرتے

محفلِ علم و فکر و دانش میں

ہم سے جاہل ،گنوار کیا کرتے

دیکھنے والے ہو گئے رُخصت

ہم بناوسنگھار کیا کرتے

ہم جو ہوتے نہ ناز اُٹھانے کو

آپ سے شہریار کیا کرتے

ہم کو گھاٹا ہی راس آتا ہے

عشق میں کاروبار کیا کرتے

وہ گلے آ لگے خزاوںمیں

آرزوئے بہار کیا کرتے

خود پرستی شعار تھا اُن کا

وہ بھلا ہم سے پیار کیا کرتے

آپ بیتی سُنائے جاتے ہیں

اور اُجڑے دیار کیا کرتے

دل کے دُکھنے پہ بھی نہ ہم روتے

یوں اگر زار زار کیا کرتے

کون بیٹھا تھا منتظر اپنا

جا کے دریا کے پار کیا کرتے

ہنستے ہنستے نکل پڑے آنسو

چشم و دل تھے فگار کیا کرتے

تھے گلابوں کے تو سبھی گاہک

خار پھرتے تھے خوار ،کیا کرتے

یہ گواہی ہے اُن کے ہونے کی

گر نہ چُبھتے تو خار کیا کرتے

بے حجاب آگئے وہ محفل میں

آج پرہیز گار کیا کرتے

کام جو کر گئے ہیں دیوانے

وہ ترے ہوشیار کیا کرتے

بزمِ اہلِ غرور میں پیارے

ہم سے طاعت گزار کیا کرتے

نہ گئیں شعلہ باریاں اُن کی

ہم کہ تھے خاکسار کیا کرتے

ہم نے روکا نہیں کھلے بندوں

تھے ذرا وضع دار کیا کرتے

تیری چوکھٹ پہ گر نہ آگرتے

ہم غریب الدیار کیا کرتے

شعر گوئی شعار ہے اپنا

اور کوئی شعار کیا کرتے

ختم کرتے ہیں یہ غزل جبراً

اور اب اختصار کیا کرتے

ایک چھوٹی سی بات کو عرشی

اپنے سر پر سوار کیا کرتے

 

 

Rate: 0