کس قدر ہم ہیں غریب

 

 

(ماخوذ)

ارشاد عرشی ملک

 arshimalik50@hotmail.com

 

اک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دولت مند باپ

نو جواں بیٹے کو اپنے ، لے کے نکلا گھر سے آپ

 

زندگی کے رنگ تا اس کو دکھائے سب کے سب

فرق غربت اور امارت کا بتائے سب کے سب

 

تا وہ لڑکا جان لے کہ لطف و آسائش ہے کیا؟

کس قدر غربت ہے یخ ، دولت کی گرمائش ہے کیا؟

 

زندگی کی ہر خوشی آرام سب دولت سے ہے

جگمگاتا دن مہکتی شام سب دولت سے ہے

……………………………………

باپ بیٹے نے گذارے دن بہت سے گاؤں میں

رات اک کمرے میں ، دن برگد کی ٹھنڈی چھاؤں میں

 

جس جگہ ٹھہرے ، تھا اک چھوٹا سا کچا سا مکاں

اور تھا آباد اک دہقان کا کنبہ وہاں

 

آٹھ ، نو بچے تھے ، کچھ تھیں مرغیاں کچھ بکریاں

شور تھا اتنا کہ گویا ایک میلے کا سماں

………………………………

واپسی پر باپ نے بیٹے سے پوچھا جانِ جاں

تم نے کیا دیکھا کہ کیسا ہے غریبوں کا جہاں

 

اس سفر سے تم نے کیا سیکھا صداقت سے کہو

کیا ہے غربت کیا امار ت اب وضاحت سے کہو

……………………………

نو عمر بیٹا یہ بولا کتنے خوش قسمت ہیں وہ

ہے ہمارا ایک کُتا اور ان کے پاس دو

 

پول بھی چھوٹا ہے اپنا ، اس میں وسعت بھی نہیں

تیرنے کے واسطے پر ، ہم کو فرصت بھی نہیں

 

جابجا ان کے لئے تالاب ہیں چھوٹے بڑی

مستیاں کرتے ہوئے بچوں سے رہتے ہیں بھرے

……………………………………

ہم کو اُبلے پانیوں میں بھی جراثیموں کا ڈر

ہینڈ پمپوں کا وہ پی لیتے ہیں پانی بے خطر

 

مرغیاں اور بکریاں ان کے لئے ہیں بے ضرر

ہم کو ان کے پاس جانے سے مگر لگتا ہے ڈر

 

کب فروزن مرغیاں بازار سے لاتے ہیں وہ

گھر کی تازہ مرغیوں کو بھون کر کھاتے ہیں وہ

 

…………………………………

روشنی کے واسطے اپنے یہاں فانوس ہیں

چاندنی سے چاند اور تاروں کی وہ مانوس ہیں

 

لان میں اپنے فقط کچھ گھاس ہے اک پیڑ سا

واسطے ان کے گھنے پیڑوں کا لمبا سلسلہ

 

اپنے گھر کے سامنے کچھ بلڈنگیں ہیں ، ریت ہے

ان کے گھر کے سامنے اک لہلہاتا کھیت ہے

…………………………………

اپنی خدمت کے لئے گرچہ ہیں کچھ نوکر یہاں

دوسروں کی کر کے خدمت وہ ہیں کتنے شادماں

 

اپنے پھل اور سبزیاں بازار سے لاتے ہیں ہم

خود اُگاتے ہیں وہ یہ سب ، کس قدر ان میں ہے دم

 

ہم نے دیواریں بنائی ہیں حفاظت کے لئے

دوستوں کی فوج ہے ان کی ضرورت کے لئے

 

……………………………………

باپ ششدر رہ گیا بیٹے کی جب باتیں سُنیں

ایسی باتیں اس نے عرشیؔ عمر بھر سوچی نہ تھیں

 

چوم کر پھر باپ کو بولا وہ بیٹا شکریہ

شکریہ بھی وہ ، کہ دانا باپ حیراں رہ گیا

 

تھینک یو ‘‘ ابو سفر پر لے کے جانے کے لئے

کس قدر ہم ہیں غریب‘‘ اتنا بتانے کے لئے

…………………………………

  

Rate: 0