کتنے موسم بیت گئے

ارشاد عرشی ملک

آپ کے در پر آتے جاتے کتنے موسم بیت گئے

آپ کو دِل کے زخم دکھاتے کتنے موسم بیت گئے

 

من کے بنجر صحرا میں دن رات بگولے رقصاں ہیں

ہم کو اپنی خاک اُڑاتے کتنے موسم بیت گئے

 

خود بھڑکایا درد کا بھانبھڑ اشکوں کے چھڑکائو سے

پانی سے یہ آگ لگاتے کتنے موسم بیت گئے

جاناں کھڑکی کھول بھی دو اب، جان لبوں تک آپہنچی

اس چوکھٹ سے سر ٹکراتے کتنے موسم بیت گئے

تنہا صبحیں، تنہا شامیں، تنہا راتیں بیتی ہیں

دِل کو ملن کی آس دلاتے کتنے موسم بیت گئے

 

درد چھپایا، آنسو پونچھی، چہرے پر مسکان سجائی

ان رمزوں سے جی بہلاتے کتنے موسم بیت گئے

 

شائد آج وہ پٹ کھولیں گے شائد آج وہ درشن دیں گے

ہر شب دِل کی آس بندھاتے کتنے موسم بیت گئے

 

آپ کے لب سے نکلی “ہوں ہاں” اپنے دِل کا روگ بنی

ہوں ہاں” کو معنی پہناتے کتنے موسم بیت گئے

 

آپ نے اک دن یونہی مُڑ کر مجھ کم ظرف کو دیکھا تھا

اُس دِن سے خود پر اتراتے کتنے موسم بیت گئے

 

ماتمِ ہستی اتنا پھیلا، جیون شامِ غریباں ہے

خود روتے، اوروں کو رُولاتے کتنے موسم بیت گئے

 

آس کی ننھی مدھم لَو تھی سخت تھپیڑے فرقت کے

آندھی سے یہ دیپ بچاتے کتنے موسم بیت گئے

 

جس کے عشق میں سُدھ بُدھ کھوئی، دُنیا چھوڑی، خاک ہوئے

اُس سے قول، قرار نبھاتے کتنے موسم بیت گئے

 

ہجر نہ جس کا جھیلا جائے جس کی ہر پل راہ تکوں

ہائے اُسے مجھ سے کتراتے کتنے موسم بیت گئے

 

بے ننگ و بے نام تو تھے ہی، اب بے گھر بھی بے در بھی ہیں

جگ سے اپنا حال چھپاتے کتنے موسم بیت گئے

 

فرصت میں سب زخم کھرچنا اپنا شوق پُرانا ہے

دِل کے سوئے درد جگاتے کتنے موسم بیت گئے

 

آپ کے در پر آ تو گئے پر عرضِ تمنا کر نہ سکے

یونہی جھجھکتے اور شرماتے کتنے موسم بیت گئے

 

جلوۂِ جاناں جھیل نہ پائے اب تک آنکھیں ششدر ہیں

حیراں دِل کو ہوش میں لاتے کتنے موسم بیت گئے

 

تیرے ذکر کی محفل سے ہم دِل میں چراغاں کرتے ہیں

چھوٹے چھوٹے دیپ جلاتے کتنے موسم بیت گئے

 

اک دیوار اُٹھاتی ہُوں تو دو دیواریں ڈھے جاتی ہیں

دِل کا اُجڑا شہر بساتے کتنے موسم بیت گئے

 

کملی، جھلی اور سودائی، جگ نے کیا کیا لقب دیئے ہیں

عشق میں تیرے نام رکھاتے کتنے موسم بیت گئے

 

آپ کے اک دو مبہم فقرے میری عمر کا حاصل ہیں

ہِر پِھر کر ان کو دہراتے کتنے موسم بیت گئے

 

گریۂ پیہم خیر ہو تیری تُو بھی ہارا ہم بھی ہارے

اشکوں سے یہ آگ بجھاتے کتنے موسم بیت گئے

 

جانی پہچانی تھیں راہیں تیرے مُکھ کا چانن بھی تھا

پھر بھی گرتے، ٹھوکر کھاتی، کتنے موسم بیت گئے

 

اب بھی حُبِ دُنیا کی کچھ چھینٹیں دِل پر پڑ جاتی ہیں

آنچل سے یہ داغ چھڑاتے کتنے موسم بیت گئے

 

درد ہی اپنا سنگی ساتھی، درد ہی اپنا جیون ہے

عرشیؔ درد کے نغمے گاتے کتنے موسم بیت گئے

٭٭٭٭٭٭

Rate: 0