پنسل اور انسان

 

ماخوذ

 

ارشاد عرشیؔ ملک

 

پنسلوں کے ایک کاریگر نے پنسل سے کہا

آخرش بازار میں جانے کا لمحہ آگیا

جا کے اب میدان میں جوہر دکھا

تو مری تخلیق ہے تجھ سے محبت ہے مجھے

بادلِ نخواستہ کرتا ہوں پر ،تجھ کو جدا

کچھ نصائح تجھ کو کرتا ہوں مگر قبل از وداع

…………………………

بہتریں پنسل ہو گر بننا تجھے

تجھ پہ لازم ہے کہ تو یہ پانچ باتیں جان لے

صدقِ دل سے پھر عمل کرنے کی ان پر ٹھان لے

گر ہے کچھ دنیا میں کرنے کی طلب

خود کو دے دینا کسی کے ہاتھ میں

عاجزی سے،ہو کے مخلص، با ادب

………………………

اور پھر وقتاً فوقتاً تجھ کو ہے

شاپنر سے روز و شب چھلنا ضرور

ایک پنسل کو یہ دکھ سہنا ہی ہے

اس کی نوک اس کے لئے گہنا ہی ہے

…………………

ہاں غلط گر تجھ سے کچھ لکھا گیا

اس کی تو اصلاح کرنا لازماً

ہاں مٹا کر پھر سے لکھنا لازماً

…………………

سکہّ و لکڑی ہے جسمِ ظاہری

اصلیت ہے دور باطن میں چھپی

…………………

غور سے سن لے یہ نکتہ آخری

اس میں پوشیدہ ہے علم و آگہی

جس بھی کاغذ کو چھوئے تو جانِ من

اس پہ تیرا نقش اُترے لازماً

اس کو مل جائے انوکھا بانکپن

ایک پنسل کی یہی پہچان ہے

ایک پنسل کی یہی تو شان ہے

……………………

نام پنسل کے تھا  عرشیؔ جو پیام

اب وہی پیغام ہے انساں کے نام

کام کر سکتا ہے تُو بے شک بڑے

اپنی ضد پہ گر نہ  ہر لحظہ  اڑے

سونپ دے خود کوخدا کے ہاتھ میں

کہہ سمعنا اور اطعنا ساتھ میں

……………………

اور پھر وقتاً فوقتاً جھیلنا

کچھ نہ کچھ محنت ،مشقت ،ابتلا

ابتلا انسان کا ہیں شاپنر

جس قدر چِھلتا ہے ،جاتا ہے نکھر

مشکلیں مضبوط کر دیں گی تجھے

گرمئیِ ایماں سے بھر دیں گی تجھے

……………………

تیرے ہاتھوں میں ہے توبہ کا  ’’ربر”

 جو مٹا دے گا خطائیں بیشتر

……………………

ظاہری صورت تری گو ، تن میں ہے

اصلیت تیری مگر باطن میں ہے

……………………

آخری نکتہ بھی سُن لے جانِ جان

تجھ میں پوشیدہ ہے طاقت کا جہاں

تو کہ جن لوگوں کے بھی ہو درمیاں

مہرباں تجھ پر ہوں یا نا مہرباں

چھوڑنا ان سب پہ ہے اپنا نشان

عزم کی بننا ہے تجھ کو داستاں

ہے یہی پیارے ترے شایانِ شاں

………………………

Rate: 0