پپو ،جو دلاور نہ بن سکا

(مرکزی خیال ماخوذ)

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

اِک چھچھورا شخص جس کی عقل میں کافی تھا پھیر

شوق رکھتا تھا کہ سمجھیں لوگ سب اس کو دلیر

 

نام پپو تھا مگر اس نے دلاور رکھ لیا

بعد میں اپنی حماقت کا مزہ بھی چکھ لیا

 

تھا اکڑ کر وہ گذرتا ہر گلی بازار سے

راہ میں لڑتا تھا ہر کمزور اور لاچار سے

 

ایک دن آیا اچانک اس کے دل میں یہ خیال

کچھ کروں ایسا کہ سمجھیں لوگ مجھ کو باکمال

 

کیوں نہ گدوا لوں شبیہ میں پُشت پر اِک شیر کی

خواہ مخواہ اس کام میں کیوں میں نے اتنی دیر کی

 

پیٹھ پر میری گدُا جب شیر کو دیکھیں گے لوگ

میں بہادر کس قدر ہوں لازماً سوچیں گے لوگ

 

یہ خیال آیا ہی تھا کہ جوش سے وہ بھر گیا

ایک نائی کی طرف پھر شیر گدوانے گیا

 

گاہکوں کو ڈانٹ کر پہلے دیا اس نے بھگا

اور نائی سے بہت اِترا کے پھر کہنے لگا

 

دلاور  :۔۔

تو بہت خوش بخت ہے کر ناز اپنی شان پر

اِک بہادر شخص آیا ہے تری دُکان پر

 

گود دے تصویر میری پُشت پر اِک شیر کی

مجھ سے پِٹ جائے گا تو گر تو نے تھوڑی دیر کی

 

نائی :۔۔

میرے بائیں ہاتھ کا ہے کام یہ اے پہلواں

شیر میں ایسا بناؤں گا کہ دیکھے اِک جہاں

 

پُشت کیجئے اس طرف اور بیٹھئے آرام سے

آپ کچھ کم تو نہیں ہیں رُستم و بہرام سے

 

…………………………………

جب کیا آغاز اُس نائی نے اپنے کام کا

مچ گیا یکدم دُکاں میں شور اور کہرام سا

 

اولیں سوئی کے چُبھنے پر وہ چیخا ناگہاں

کیا بناتا ہے ارے کم بخت کر جلدی بیاں

 

نائی :۔۔

شیر کا میں گودتا ہوں کان میرے مہرباں

حوصلے سے بیٹھئے ہلئے نہیں یوں درمیاں

 

دلاور :۔۔

کیا مُصیبت ہے تجھے اور کیوں مچاتا ہے اندھیر

کان گر نہ ہو تو کیا رہتا نہیں ہے شیر،شیر؟

 

نائی :۔۔

شیر تو ہے شیر ہی جنگل کا وہ سرتاج ہے

اپنے ہونے کے لئے کب کان کا محتاج ہے

 

دلاور :۔۔

چھوڑ دے پھر کان کو اور ڈھا نہ مجھ پر قہر تو

شکل و صورت سے ہی لگتا ہے مجھے بے مہر تو

 

نائی :۔۔

ٹھیک ہے میں دُم بنا دیتا ہوں پہلے پہلواں

شیر کا ہر عضو ہی ہیبت کا ہے زندہ نشاں

 

نوک چُبھتے ہی سوئی کی پھر سے دھاڑا وہ دلیر

دُم اگر کٹ جائے تو رہتا نہیں کیا شیر،شیر؟

 

نائی :۔۔

شیر تو ہے شیر ہی جنگل کا وہ سردار ہے

دُم کا ہونا یا نہ ہونا کب اسے درکار ہے؟

 

چھوڑتا ہوں دُم کو میں اور گودتا ہوں ٹانگ کو

صبر سے اب بیٹھئے اور روک لیجئے بانگ کو

 

دلاور :۔۔

تو یونہی سوئیاں چُبھو کر ، دے گا کیا مجھ کو ادھیڑ؟

ٹوٹ جائے ٹانگ تو رہتا نہیں کیا شیر شیر؟

 

نائی :۔۔

آنکھ  پہلے  گود  دیتا  ہوں  اگر  منظور   ہو

آنکھ بھی ایسی کہ جو دیکھے اسے مسحور ہو

 

…………………………………

آنکھ جب گدنے لگی پھر سے سیاپا پڑ گیا

نوک چبھتے ہی سوئی کی اس کا پارہ چڑھ گیا

 

…………………………………

الغرض جو عضو بھی نائی نے چاہا گودنا

کر دیا احمق دلاور نے وہیں محشر بپا

 

نائی نے آخر بگڑ کر اس کو اِک دھکا دیا

اور بولا چیخ کر بُزدل یہاں سے ہو دفع

 

لات ماری پیٹھ پر بولا کہ اُٹھ جا نابکار

نام رکھ لے اپنا گیدڑ بُزدلی کے شاہکار

 

ایک ہلکی سی چبھن کو بھی جو سہہ سکتا نہیں

شیر گُدوانے چلا ہے پیٹھ پر اےکمتریں

 

ان گنت دیکھے ہیں بزدل تجھ سا پر دیکھا نہیں

تو ہے احمق اور چھچھورا ہو گیا مجھ کو یقیں

 

شیر وہ کیسا کہ جس کی آنکھ ہو نہ کان ہو

ٹانگ اور دُم سے بھی خالی بے سر و سامان ہو

 

دور ہو میری نظر سے وقت کو ضائع  نہ کر

ورنہ میں ماروں گا لات اک اور تیری پیٹھ پر

 

مت سجا اونچی دُکاں پکوان ہے پھیکا ترا

شکل تیری پھر نہ دیکھوں ، حوصلہ دیکھا ترا

 

…………………………………

ہے یہی ان سب کی حالت جن کے دعوے ہیں بڑے

جب بھی قربانی کے موسم ان پہ آتے ہیں کڑے

 

کچھ بھی کر سکتے نہیں وہ راہ میں اللہ کی

خواہشیں پَھوکی لئے پھرتے ہیں اس کی چاہ کی

 

 چیخنے لگتے ہیں قربانی پہ مال اور جان کی

خوشنما لگتی ہیں راہیں اُس گھڑی شیطان کی

 

دفعتاً ہوتا ہے ظاہر ان کے اندر کا نفاق

قُرب کی راہیں بہت لگتی ہیں اُن کو خوفناک

 

قُرب ، قُربانی سے ملتا ہے نہیں ان کو خبر

چاہتے ہیں وہ پکوڑے تُھوک سے تلنا مگر

 

حال ہے اُن کی شجاعت کا بھی اس نادان سا

اپنی بے خوفی پہ عرشیؔ جس کو جھوٹا مان تھا

 

کوئی سچا ہو نہیں سکتا فقط گفتار سے

آدمی کو جانچئے اعمال سے کردار سے

…………………………………

Rate: 0