پُل یا جنگلہ

 

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

 

یہ کہانی ہے پرانی پر سنانی ہے تمہیں

بات اک حکمت کی ہے اس میں بتانی ہے تمہیں

 

ذکر ہے دو بھائیوں کا جن میں تھی الفت بڑی

تھی لڑکپن سے محبت ان کی گھٹی میں پڑی

 

وہ برس ہا برس سے آپس میں یوں یک جان تھے

ایک دوجے کے لئے سو جان سے قربان تھے

 

نام تھا اک کا سکندر دوسرے کا سیف تھا

لمحہ لمحہ ان کے جیون کا بہت پُر کیف تھا

 

منسلک تھے کھیت ان کے اور زمینیں ساتھ ساتھ

کاٹتے تھے زندگی دونوں دئیے ہاتھوں میں ہاتھ

 

شومئی ِ قسمت کہ نظرِ بد کسی کی لگ گئی

پیار کی کلیاں جھڑیں نفرت کی بوٹی اُگ گئی

 

اِک غلط فہمی کے باعث سرد مہری بڑھ گئی

دیکھتے ہی دیکھتے گرہ دلوں میں پڑ گئی

 

ہو گئی غصے میں آکر بند ان کی بول چال

ہر گھڑی اٹھنے لگے پھر دل میں نفرت کے ابال

 

درمیاں کھیتوں کے ان کے ایک نالہ تھا رواں

اس پہ اک لکڑی کا تختہ پاٹتا تھا دوریاں

 

توڑ کر تختے کو کاٹا سیف نے یہ رابطہ

جوش میں نفرت کے نالہ اور چوڑا کر دیا

 

ہوگئیں افسوس یوں ان کی زمینیں بھی جدا

کھا گئی ساری محبت ، بغض و نفرت کی بلا

 

ایک دن بھائی سکندر گھر میں تھا بیٹھا ہوا

چاہتا تھا اپنے بھائی کو چکھانا کچھ مزہ

 

سوچ میں تھا کیوں نہ بنواؤں میں اِک جنگلہ بڑا

گھر کے دروازے پہ اک ترکھان اچانک آگیا

 

تھا پریشاں حال سا ، تھی کام کی اس کو تلاش

در بدر گویا پھراتی تھی اسے فکرِ معاش

 

دیکھ کر اس کو سکندر خوش ہوا ، کہنے لگا

تم چلے آئے ہو میرے پاس یہ اچھا ہوا

 

پھر دکھا کر اس کو نالہ جوش سے کہنے لگا

تم کو اک جنگلہ بنانا ہے یہاں کافی بڑا

 

دیکھتے ہو سامنے وہ سیف بھائی کی زمیں

وہ مرا بھائی کبھی ہوتا تھا لیکن ، اب نہیں

 

اُس نے مجھ کو گالیاں دیں ، دل کو کھٹا کر دیا

بغض دکھلانے کو نالہ اور چوڑا کر دیا

 

وہ جو کونے میں پڑی تم دیکھتے ہو لکڑیاں

ان سے اک جنگلہ بنا دو میرے اس کے درمیاں

 

شکل اس کی دیکھنے سے اس قدر بے زار ہوں

میں کسی بھی حد پہ جانے کے لئے تیار ہوں

 

سر جھکا کر بڑھئی نے صرف جی اچھا کہا

لکڑیوں کو کاٹنے اور چھیلنے میں جت گیا

 

شہر میں اس دن سکندر کو ضروری کام تھا

لوٹنے کا شام کو کہہ کر وہ فوراً چل دیا

 

جب وہ لوٹا شام کو واپس تھکا ہارا ہوا

سائے میں اک پیڑ کے ترکھان تھا سستا رہا

 

درمیاں دونوں کے کھیتوں ، کے کوئی جنگلہ نہ تھا

ہاں مگر اک خوبصورت پل وہاں موجود تھا

 

طیش میں آکر سکندر جانبِ ترکھاں مُڑا

قبل اس کے پل بنانے پر وہ اس کو ڈانٹتا

 

دیکھ کر بھائی کو پُل کے دوسری جانب کھڑا

عالمِ حیرت میں پل بھر کو سکندر رک گیا

 

بڑھ رہا تھا اس کی جانب اس کا بھائی اس طرح

دوڑ کر محبوب کو ملتا ہے عاشق جس طرح

 

سیف پورے جوش سے بولا سکندر مرحبا

میرے پیارے بھائی تیرا ظرف ہے کتنا بڑا

 

میں نے تو کاٹا تھا تیرے ساتھ ہر اک رابطہ

فاصلہ رکھنے کو نالہ اور چوڑا کر دیا

 

پُل بنا کر تُو نے پھر کی رابطے کی ابتدا

تو کہ اعلیٰ ظرف ہے بھائی میرے بے انتہا

 

سُن کے یہ فقرہ سکندر خود بھی حیراں رہ گیا

کیونکہ اس کا بھی ارادہ پُل بنانے کا نہ تھا

 

محوِ حیرت ہو کے اپنے بھائی کو تکنے لگا

گرم جوشی سے لپک کر خود بھی پھر آگے بڑھا

 

درمیاں میں جا کے پُل کے یوں ملے دونوں گلے

ایک پل میں دُھل گئے جو دل میں تھے شکوے گِلے

 

بھائی سے اظہارِ اُلفت جب سکندر کر چکا

اس کو سینے سے لگا کر دل میں ٹھنڈک بھر چکا

 

بِل چکانے کے لئے وہ جانبِ ترکھان مڑا

وہ تھا اوزاروں کا تھیلا لے کے جانے کو کھڑا

 

مسکرا کر اس سے پھر بھائی سکندر نے کہا

اور بھی کچھ کام ہیں ترکھان جی رُکیے ذرا

 

ہنس کے وہ بولا، کہ میں فرصت سے آؤں گا کبھی

اور کافی پُل مجھے تعمیر کرنے ہیں ابھی

 

اِک فرشتہ تھا وہ گویا شکل میں ترکھان کی

جس نے دونوں بھائیوں کو پیار کی پہچان دی

 

پُل بناؤ تم بھی عرشیؔ سب خلیجیں پاٹ دو

بے رُخی نفرت کی سب آکاس بیلیں کاٹ دو

…………………………………

Rate: 0