نمک کا ذائقہ

ارشاد عرشیؔ ملک
arshimalik50@hotmail.com

تھا بہت شکوؤں کا عادی ایک مرشد کا مرید
اُس کی عادت تھی کہ خوشیوں سے بھی غم کرتا کشید

اس کے لب پر شُکر کا کلمہ کبھی آتا نہ تھا
شکوہ سنجی کے سوا نغمہ کوئی گاتا نہ تھا

ایک دن مُرشد نے بھیجا اس کو لے آئے نمک
عمر بھر کے واسطے تا سیکھ لے وہ اِک سبق

جب وہ لے آیا نمک تو حکم مرشد نے دیا
ایک کپ پانی میں اِک مٹھی نمک کی اب ملا

پی کے پھر پانی بتا کیسا ہے اس کا ذائقہ؟
گھونٹ اک بھرتے ہی وہ شکوؤں کا عادی رو پڑا

جوڑ کر پھر ہاتھ وہ مرشد سے یوں کہنے لگا
پی نہ پاؤں گا اسے ہے زہر اس کا ذائقہ

ہنس دیا مرشد کہا چل جھیل کی جانب چلیں
اس تجربے کو نئے اک ڈھنگ سے اب کے کریں

جھیل پر پہنچے تو مرشد نے کہا بے ساختہ
کپ سے جو پانی پیا اس کا بھلا دے ذائقہ

ڈال دے اب جھیل میں مٹھی نمک کی اے مرید
تا تو جیون کی حقیقت کو کرے اس سے کشید

گھول دے مٹھی نمک کی جھیل میں اب کے ذرا
پھر اسے پی کر بتا کیسا ہے اس کا ذائقہ؟

ایک جگ پانی کا اب وہ بے تکلف پی گیا
پر نمک کا ذائقہ محسوس تک نہ کر سکا

دیکھ کر یہ ماجرا مرشد نے اس سے یوں کہا
اب جو کہنے کو ہوں پیارے غور سے سُننا ذرا

ہیں نمک کی مثل کڑوے زندگی کے رنج و غم
ذائقہ ہے ایک سب کا بیش ہے کوئی نہ کم

اپنے برتن پر ہے کڑواہٹ کا سب دار و مدار
ظرف چھوٹا ہے تو کڑواہٹ لگے گی بے شمار

گر ہو تم شکوؤں کے عادی ہر طرف غم پاؤ گے

کینوس اپنا وسیع کر لو تو سب سہہ جاؤ گ

جھیل کی مانند دل کے ظرف کو پھیلائیے
کپ نہ بنئے آپ عرشیؔ جھیل سے بن جائیے

*******

Back to Conversion Tool

Back to Home Page

 

 

Rate: 0