میں مر کر بھی رہوں شائد انہیں اشعار میں زندہ

ارشاد عرشی ملک

arshimalik50@hotmail.com

ہو جیسے درد کا سُر شوخیِ اظہار میں زندہ

میں مر کر بھی رہوں شائد انہیں اشعار میں زندہ

 

مرے شعروں میں میری سسکیاں سُن کر سمجھ لینا

میں چنوائی گئی پھر بھی رہی دیوار میں زندہ

 

بظاہر مقبرہ ہے زندگی اک ہُو کا عالم ہے

پر اک خواہش ابھی تک ہے دلِ بیمار میں زندہ

 

بظاہر لوگ ہنستے بولتے ،ملتے ملاتے ہیں

مگر کوئی نہیں اس شہرِ پُر اسرار میں زندہ

 

کوئی ہوں ہاں نہیں ہم تو صدائیں سب کو دے بیٹھے

کوئی انصار میں زندہ ہے نہ اغیار میں زندہ

 

کسی کو عجز کا نشہ تکبر میں کوئی بے خود

کوئی اقرار میں زندہ کوئی انکار میں زندہ

 

بھرے شہروں میں یہ انساں ہیں یا انساں کے سایے ہیں

کوئی ملتا نہیں اس شہرِ پُر اسرار میں زندہ

 

ہر اک ہے عجز سے عاری انا نو گز کی رکھتا ہے

ہر اک  انساں ہے اپنے نشّہِ پندار میں زندہ

 

تمنائی تھے جس کی موت کے خود اس کے بھائی بھی

وہ یوسف بک رہا تھا مصر کے بازار میں زندہ

 

مٹا پائے نہیں صدیوں کے یہ ظلم و ستم ہم کو

ہم اصحابِ کہف کی شکل ہیں اک غار میں زندہ

 

مٹا لیتے ہی جو خود کو رضائے باری تعالیٰ میں

وہی رہتے ہیں عرشیؔ جی کئی ادوار میں زندہ

٭٭٭٭٭

Rate: 0