مستقبل پر کِس کا بس ہے

               (ماخوذ)

           ارشاد عرشیؔ ملک

 

جب میں ننھی مُنی سی تھی، میں نے اپنی ماں سے پوچھا

کیا میں سُندر پھول بنوں گی، دُنیا میرے ہاتھ میں ہوگی؟

تب وہ دھیرے دھیرے بولی

جو ہوناہے جان سو ہوگا،

مستقبل پر کِس کا بس ہی، مستقبل کو کِس نے دیکھا

………………………………

بچپن بیتا موسم بدلا، آنکھوں میں سپنے لہرائے

میں نے بھی اس عمر میں عرشیؔ، پھول چنے کچھ محل بنائے

اپنے شہزادے سے پوچھا، اب کیا دن کیا راتیں ہوں گی

وقت کی جھولی خالی ہوگی یا اس میں سوغاتیں ہوں گی

قوس و قزح جیسے دن ہوں گے یا پاگل برساتیں ہوں گی

تب وہ شہزادہ یہ بولا

جو ہونا ہے جان سو ہوگا

مستقبل پر کِس کا بس ہی، مستقبل کو کِس نے دیکھا

………………………………

پھر وہ سُندر دن بھی آئے، ممتا کے بادل لہرائے

ننھی مُنی سی دو پریاں، میرے گھر آنگن میں اُتریں

میری گود میں بیٹھ کے دونوں، بھولے پن سے پوچھ رہی تھیں

کیا وہ سُندر پھول بنیں گی،دُنیا اُن کے ہاتھ میں ہوگی

دھیرے دھیرے میں کہتی تھی

جو ہونا ہے جان سو ہوگا

مستقبل پر کسی کا بس ہی، مستقبل کو کِس نے دیکھا

………………………………

مہکا مہکا موسم بیتا، وقت کا ظالم چکر جیتا

آج میں کتنی تنہا  ہُوں، گم سم اور اکیلی ہوں

اپنے لیے پہیلی  ہُوں

خود ہی سوچا کرتی ہوں، خود سے پوچھا کرتی ہوں

میں کِس کی مجبوری ہوں، شائد غیر ضروری ہوں

ایک سے دن ہیں، ایک سی راتیں

بوجھل سوچیں، بوجھل باتیں

ایک ہی رو میں بہتی ہُوں، عرشیؔ خود سے کہتی ہوں

جو ہونا ہے جان سو ہوگا

مستقبل پر کس کا بس ہی، مستقبل کو کِس نے دیکھا۔

………………………………

 

Rate: 0