غزل

ارشاد عرشی ملک

 

منتظر اُس شہر میں عرشیؔ مرا کوئی نہیں

اب کِسی گھر کی منڈیروں پر دیا کوئی نہیں

 

ایک دو چہروں میں ہلکی سی شباہت تھی مگر

اس نگر میں اُس طرح کا دوسرا کوئی نہیں

 

سب کے لب خاموش ہیں سب کی نگاہوں میں سوال

زد میں سب آسیب کی ہیں بولتا کوئی نہیں

 

ہاتھ ہیں اک دوسرے کے سامنے پھیلے ہوئے

جس طرح سے آسمانوں پر خُدا کوئی نہیں

 

سب کے ہاتھوں میں ہیں پتھر سب کی آنکھوں میں شرر

کررہے ہیں کیا؟یہ رُک کر سوچتا کوئی نہیں

 

خود کو پانے کی طلب میں مل گیا تیرا سُراغ

تُو ہی تُو ہے اب یہاں تیرے سوا کوئی نہیں

 

سب کے سب ہیں ایک سی زنجیر میں جکڑے ہوئے

خواہشوں کی قید سے عرشیؔ رہا کوئی نہیں

 

کھوج میں تیری جو نکلا اُس نے خود کو کھودیا

اس نگر سے لوٹنے کا راستہ کوئی نہیں

Rate: 0