اک قیامتِ صغریٰ ، تھی وہ دوپہر کالی

زخم بن کے رِستی ہے کب ہے بھولنے والی

تھی مئی کی اٹھائیس اور دن جمعے کا تھا

یک بیک مساجد میں شور سا ہوا برپا

گولیوں کی تڑ تڑ میں گر رہی تھیں جب لاشیں

بے گناہ جسموں کی ہو رہی تھیں جب قاشیں

جب سسکتے لوگوں پر دوپہر وہ بھاری تھی

بحث اک پسِ پردہ میڈیا پہ جاری تھی

سارے چینلوں کو تھی مستقل پریشانی

نشر کرنے والوں کو بھی عجیب حیرانی

قادیانیوں‘‘ کا ذکر کس طرح کیا جائے

احمدی یا مرزائی ،ان کو کیا کہا جائے

ان کی اس عبادت کو کس طرح جمعہ کہہ دیں

کیوں نہ ہم اسے جلسہ ، کوئی عام سا کہہ دیں

ہم نے گر کہا مسجد ، ’’مرزائی عمارت‘‘ کو

کیسے روک پائیں گے ہم کسی شرارت کو

ہاں ’’شہید‘‘ بھی ان کو بھول کر نہیں کہنا

مولوی کا غصہ بھی بے وجہ نہیں سہنا

یہ نہ ہو کہ مُلا کی دُم پہ پیر پڑ جائے

رُخ تمام توپوں کا اپنی سمت مُڑ جائے

عالموں سے ہم لے لیں کس طرح کوئی پنگا

چھڑ نہ جائے غفلت میں پھر کوئی نیا دنگا

جن کو قتل کرنے پر خُلد کی بشارت ہو

ان کے قاتلوں کی پھر کس طرح مذمت ہو

الغرض ہر اک چینل ایک مخمصے میں تھا

آگ کا سمندر اک ان کے راستے میں تھا

بے شمار سوچیں تھیں بے شمار رمزیں تھیں

اور ڈوبتی جاتی زخمیوں کی نبضیں تھیں

مصلحت کی بیڑی تھی ہر کسی کے پاؤں میں

مر رہے تھے لوگ عرشیؔ گولیوں کی چھاؤں میں

Rate: 0