محمل نشیں نہیں اب لیلائے  احمدیت

 

ارشاد عرشیؔ ملک

 

دنیا میں ہر طرف ہے غوغائے احمدیت

محمل نشیں نہیں اب لیلائے احمدیت

 

شرق و غرب میں ہر دل اِک ساتھ ہے دھڑکتا

یہ وحدت و اخوت زیبائے احمدیت

 

دیکھو ذرا کرشمے فضلِ خدا کے لوگو

اک بوند سے بنا ہے دریائے  احمدیت

 

سیراب کر رہی ہے تشنہ لبوں کو ہر دم

لبریز و مستعد ہے مینائے احمدیت

 

فصلِ خزاں میں پیارو ہم پھول بانٹتے ہیں

بوسیدہ موسموں کو مہکائے احمدیت

 

رنگت جدا جدا ہے خوشبو جدا جدا ہے

پر تازگی میں یکساں گل ہائے احمدیت

 

چرنوں کی دھول اُس کی عالم فقیہہ ساری

دل میں سمائے جس کے سودائے احمدیت

 

نکتوں سے معرفت کے منہ سب کا بند کر دیں

ہیں دیکھنے میں سادہ دانائے احمدیت

 

منہ توڑ دے عدو کا ضربِ دلیلِ برحق

کذب و ریا کے دل کو دہلائے احمدیت

 

کل عقل رہنما تھی اور آج عقل رہزن

یہ راز خوب سمجھے بینائے احمدیت

 

خادم ہیں ہم اطاعت ، عزّ و وقار اپنا

جس وقت جو ہدایت فرمائے احمدیت

 

کل آسماں کے نیچے بس ایک دین ہو گا

ہیں اس یقیں پہ قائم شیدائے احمدیت

 

چہرے سے دیں کے دھوئے ، الزامِ قتل و غارت

اور امن کا پھریرا لہرائے احمدیت

 

ظلم و جفا کے موسم اب رہ گئے ہیں تھوڑے

دنیا بنے گی اک دن دنیائے احمدیت

 

عشقِ خدا کا رستہ پھولوں کی سیج کب تھا

آساں نہیں ہے کرنا دعوائے احمدیت

 

مذہب کے نام پر جو آباء نے دکھ سہے تھے

اس داستانِ غم کو دھرائے احمدیت

 

راہِ خدا کے کانٹے ہم کو گلوں سے بہتر

تم کیا سمجھ سکو گے ایمائے احمدیت

 

صبر و رضا کے ہم کو سکھلا گیا قرینا

مردِ جری تھا بے شک بابائے احمدیت

 

اُن قمقموں سے اپنی تاریخ ہے منور

خوں دے کے کر گئے جو احیائے احمدیت

 

کل کے نصاب میں تم پڑھو گے ذکر ان کا

جو آج ہیں جہاں میں رسوائے احمدیت

 

اک گھونٹ جس نے چکھا بے خود ہوا وہ عرشیؔ

ہے تُند و تیز کتنی صہبائے احمدیت

…………………………………

Rate: 0