ضبط پر اب نہیں تیّار ، مجھے رونا ہے

دل ہے آمادہِ تکرار ، مجھے رونا ہے

مرے مولا مرے دلدار ، مجھے رونا ہے

مرغِ بسمل ہے دلِ زار  ، مجھے رونا ہے

ضبط ایسا تھا کہ خلوت میں بھی آنسو نہ بہے

آج لیکن سرِبازار ، مجھے رونا ہے

زخم ناسور بنے جاتے ہیں گُھٹ کر دل میں

یہ تو اچھے نہیں آثار ، مجھے رونا ہے

جتنی مانی گئی ناصح تری ، مانی میں نے

آج مت روک اے غم خوار  ، مجھے رونا ہے

صرف اک حرفِ تسلی کی لگا دے مرہم

اور کچھ بھی نہیں درکار ، مجھے رونا ہے

جب سے سیلاب میں مسمار مکاں دیکھے ہیں

یاد آیا دل مسمار ، مجھے رونا ہے

ہائے وہ اشک کہ جو چشمِ خلافت سے بہے

یہ وہی اشک ہیں ، سرکار ، مجھے رونا ہے

عالمِ جذب میں خاموش مسیحا بولا

دیکھ لو شوکتِ للکار ، مجھے رونا ہے

اہلِ حق سے یہ تمسخر کسے راس آیا ہے

یہ ہیں شیروں کے چُھپے غار مجھے رونا ہے

کچھ بھی ترکش میں نہیں اپنے بجز تیرِ دعا

نہ کوئی توپ نہ تلوار مجھے رونا ہے

اب تو سیلاب ہی دھویں گے لہو کے دھبے

ہائے وہ خون کی بوچھاڑ مجھے رونا ہے

فصلِ برسات ہے دریاؤں میں طغیانی ہے

کوئی کشتی ہے نہ پتوار ، مجھے رونا ہے

قوم ڈوبی ، نہ مگر شرم سے لیڈر ڈوبے

ہے وہی شوخیِ گفتار ، مجھے رونا ہے

میں کہ ہر زخم کو شعروں میں پرو دیتی تھی

شعر کہنا ہوا دشوار ، مجھے رونا ہے

لفظ گونگے ، ہوئے اظہارِ بیاں سے عاری

کھو گئی طاقتِ گفتار مجھے رونا ہے

بھول پاتی نہیں دل کو وہ قیامت کالی

ماتمی ہیں در و دیوار ، مجھے رونا ہے

میں کہ انسان کی عظمت پہ یقیں رکھتی تھی

کرچیاں ہیں مرے افکار مجھے رونا ہے

وہ جو خوں رنگ تھے اخبار ، چھپا رکھے ہیں

جب بھی پڑھنا ہے وہ اخبار ، مجھے رونا ہے

یاد آتی ہیں جنازوں کی قطاریں پیہم

دل پہ پھر غم کی ہے یلغار ، مجھے رونا ہے

خشک سالی سے تو پتھر بھی چٹخ جاتے ہیں

ہے شکستہ دلِ لاچار ، مجھے رونا ہے

خوب رو لے ترے در پر تو بہل جاتا ہے

بس یہی دل کا ہے تہوار  ، مجھے رونا ہے

آ قریب اور قریب اور قریب اور قریب

لگ کے سینے سے ترے یار  ، مجھے رونا ہے

صبر مشکل ہے بہت دل کا سکوں ہے رونا

کھل کے اے لذتِ آزار  ، مجھے رونا ہے

میرے سینے میں غموں کے ہیں الاؤ روشن

میری آنکھوں میں ہے منجدھار  ، مجھے رونا ہے

آپ بیتی ہیں یہ اشعار کہ جگ بیتی ہیں

کیا مجھے اس سے سروکار ، مجھے رونا ہے

اشک روکے تو پڑیں دل میں دراڑیں پیارو

ریزہ ریزہ ہوا کہسار ، مجھے رونا ہے

میرے اشعار مرے دل کی ہیں قاشیں عرشیؔ

یہ نہیں غوغائیِ بے کار ، مجھے رونا ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Rate: 0