مجھے دے دو

 

ارشاد عرشی ملک

 

Arshimalik50@hotmail.com

 

عطا ہوسوچ کی وُسعت،غزل خوانی،مجھے دے دو

مرا کھویا ہوا تخت سُلیمانی، مجھے دے دو

 

تمہارا کچھ نہ بگڑے گا ذرا سی دل نوازی سے

رُخِ روشن کی اِک لمحے کی تابانی ، مجھے دے دو

 

مبارک ہو تمہیں یہ عیش و عشرت کی فراوانی

فقط اِک دردِ بے پایاں کی ارزانی، مجھے دے دو

 

متاعِ لذتِ غم میں کمی بھاتی نہیں دل کو

لگے ہیں زخم پھر بھرنے ،نمک دانی، مجھے دے دو

 

بھٹکنے کی مجھے عادت ہے تنہائی کے صحرا میں

تمہیں رونق مبارک ہو ،یہ ویرانی، مجھے دے دو

 

تمہاری قید میں برسوں سے ہے میرا دِ ل ِوحشی

نہیں ہے کام کا تو اب یہ زندانی، مجھے دے دو

 

سرِ تسلیم خم میرا تمہارے حُکم کے آگے

بنو تم عقلِ کل الزامِ نادانی، مجھے دے دو

 

بِنا دستک دئیے تم پر کُھلے ہر ایک دروازہ

ملیں آسائشیں،یہ تنگ دامانی، مجھے دے دو

 

نہیں ہمت کسی غم کی ،نظر بھر کر تمہیں دیکھے

کرم مجھ پر کرو ،اس دل کی دربانی، مجھے دے دو

 

تمہاری آنکھ میں آنسو نہ دیکھوں، میں ندامت کے

تمہاری خیر ہو،رنجِ پشیمانی، مجھے دے دو

 

ہمیشہ تم رہو ہنستے،بھلے مجھ پر ہنسو پیارے

ذرا سا حوصلہ اور خندہ پیشانی، مجھے دے دو

 

مرے دل کو بھی خواہش ہے تمہارے حوصلے دیکھے

ذرا سی دیر کو مشقِ ستم رانی، مجھے دے دو

 

مرے بے کس شکستہ دل سے تم کھیلا کئے برسوں

دبا رکھی ہے تم نے شئے جو بیگانی، مجھے دے دو

 

میں بحرِ غم کے پھیلاو میں اِک ویراں جزیرہ ہوں

کوئی والی نہیں اِس کا،یہ سلطانی، مجھے دے دو

 

ہزاروں گھاو ہیں بے مہریِ دُنیا کے اس دل پر

بہت دل تنگ ہے مولا ،اب آسانی، مجھے دے دو

 

شکستِ ذات نے عرشی بہت خود سر کیا مجھ کو

متاعِ بندگی بخشو ،ثناء خوانی، مجھے دے دو

 

Rate: 0