“ماں چُپ رہو”

 

{اپنی مرحومہ ماں کے سامنے ایک بیٹی کا اعترافِ جُرم}

 

ارشاد عرشی ملک

 

ماں بُلاتی ہوں تجھے کب سےمری آواز، سُن

سسکیوں کی تال پر جو بج رہا ہےساز ،سُن

گو عیاں تجھ پر ہیں مجھ ناقص کے سارے راز،سُن

 

آج جب میری جواں بیٹی نے میرے ہاتھ کو

دفعتاً جھٹکا،اور اپنے پائو ں کو پٹخا

کہا پھر چیخ کر “ماں چُپ رہو”

 

اُس گھڑی سے چُپ ہوں

لگتا ہے زباں پتھرا گئی

درد اتنا ہے کہ گویا جاں حلق تک آگئی

 

دل میں آوازوں کا ہے محشر بپا

تیرے بِن کس سے کہوں یہ ماجرا

آج سمجھی ہوں ترا ،دردِ نہاں

تیری آنکھوں کی نمی ،خاموشیاں

تیری اپنے آپ سے سرگوشیاں

 

یاد ہیں اپنی سبھی من مانیاں

تیرے آگے دھونس اور نادانیاں

یاد آتے ہیں جھکے کاندھے ترے

یاد آتی ہے وہ چالِ ناتواں

یاد آتے ہیں ترے سجدے طویل

یاد آتی ہیں تری وہ سسکیاں

 

ماں گھڑی بھر کے لئے آمِل مجھے

زخم سینے کے دکھانے ہیں تجھے

منہ چُھپا کر آج تیری گود میں

سب کے سب آنسو بہانے ہیں مجھے

کیسے پچھتاوں کو عرشی کم کروں

اعترافِ جُرم یا ماتم کروں

 

 

Rate: 0