ماں جو ایک آنکھ سے محروم تھی

 

(مرکزی خیال،ماخوذ)

 

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

 

یاد جب بچپن کی آتی ہے تو گھبراتا ہے دل

شرم ساری اور ندامت سے دہل جاتا ہے دل

اِک بھیانک خواب کی صورت تھی میری زندگی

زندگی بھی کیا کہ تھی دن رات کی شرمندگی

اور اِس حالت کا باعث تھا کوئی ، تو ماں مری

اِک وہی تھی جو مرے بچپن میں تھی پہچاں مری

مسئلہ یہ تھا کہ ماں اِک آنکھ سے محروم تھی

اور اِک شرمندگی ہر پل مرا مقسوم تھی

مجھ کو بچپن میں تمسخر تھا بہت سہنا پڑا

شرم سے ہر آن رہتا تھا زمیں میں میں گڑا

————————

لنچ میرا رہ گیا اِک روز گھر جب بھول میں

اور وہ ڈبہ اُٹھائے آگئی اسکول میں

دیکھ کر پہلے تو اُس کو میں پریشاں ہو گیا

اور اس کے بعد سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ اُٹھا

گھر کو واپس آکے اُس دن میں بہت ماں سے لڑا

جو بھی میرے منہ میں آیا بے دھڑک میں نے بکا

مجھ کو دُکھ دینے میں آتا ہے تجھے کتنا مزہ؟

’’مر نہیں جاتی ہے تُو کیوں ‘‘ میں نے یہ تک کہہ دیا

——————————

وہ مگر اِک لفظ نہ بولی فقط روتی رہی

اور گندے بُوٹ میرے سرف سے دھوتی رہی

اُس کی صورت قابلِ نفرت تھی میرے واسطے

نام اُس کا لے کے سب بچے تھے مجھ کو چھیڑتے

جی میں آتا تھا کہ زندہ دفن ہو جائوں کہیں

موت آ جائے مجھے ، گر ماں مری مرتی نہیں

…………………………………

جب میں کالج میں گیا تو ہاسٹل میں رہ پڑا

تا کسی بھی طور چھوٹے ماں سے اب پیچھا مرا

مجھ سے ملنے کو نہ آئے میں نے ماں سے کہدیا

اور گر آئی تو پھر دیکھے گی وہ مُردہ مرا

…………………………………

زندگی میں رفتہ رفتہ ہو گیا میں کامیاب

میرا ماضی ہو گیا میرے لئے مانندِ خواب

اب مرے بچے تھے اچھا گھر تھا کوئی ڈر نہ تھا

نہ تھی کوئی شرم ساری کوئی دردِ سر نہ تھا

یاد کرنے کی مجھے ماضی کو فرصت ہی نہ تھی

اور اپنی ماں سے ملنے کی ضرورت بھی نہ تھی

مر گئی تھی یا کہ زندہ تھی نہیں تھا کچھ پتہ

یاد جب آتی بگڑ جاتا تھا منہ کا ذائقہ

…………………………………

ایک دن یک لخت دروازے کی پھر گھنٹی بجی

میرے کانوں نے سُنی بچوں کی اپنے چیخ سی

دوڑ کر پہنچا تو دیکھا گیٹ پر ماں تھی کھڑی

بال کھچڑی تھے کمر اُس کی تھی کافی جھک گئی

ملگجے کپڑے تھے اور سر پر پھٹی سی اوڑھنی

وہ ہمیشہ سے زیادہ ہی بُری مجھ کو لگی

مجھ سے ملنے کو چلی آئی تھی بِن پوچھے کہے

میرے بچوں کے لئے ہاتھوں میں کچھ تحفے لئے

اُس پہ میں چیخا کہ کیوں مجھ کو چڑانے آئی ہے

کس لئے اب میرے بچوں کو ڈرانے آئی ہے

زندگی کو کیوں مری دوزخ بنانے آئی ہے

مجھ پہ اب پھر سے زمانے کو ہنسانے آئی ہے

دُور ہو میری نظر سے چھوڑ دے پیچھا مرا

راہ میں بھی گر ملوں مت روکنا رستہ مرا

…………………………………

وہ بہت گھبرا گئی اور اُس نے دھیرے سے کہا

معاف کیجئے میں نے بھولے سے یہ گھنٹی دی بجا

یہ کہا اُس نے اور اُلٹے پائوں واپس مُڑ گئی

دھاڑ وہ سُن کر مری تھی بے تحاشا ڈر گئی

…………………………………

مجھ کو اپنے ہوم ٹاؤن دفعتاً جانا پڑا

سلسلے میں اپنے بزنس کے ضروری کام تھا

ختم کر کے کام میرے پاس وافر وقت تھا

اور ازراہِ تجسس ہی پرانے گھر گیا

مجھ کو ہمسایوں نے بتلایا کہ ماں تھی مر چکی

اور میرے نام اِک خط تھی وہ ان کو دے گئی

ایک آنسو بھی مگر نکلا نہ میری آنکھ سے

کوئی بھی جذبہ نہیں تھا دل میں اُس کے واسطے

…………………………………

خط پڑھا جب میں نے اُس کا ، بے تحاشہ رو دیا

آخری خط میری ماں کا آپ بھی پڑھیے ذرا

میرے بیٹے جس جگہ بھی تم رہو خوش خوش رہو

زندگی کی ہر مسرت جھولیاں بھر بھر کے لو

دور ہو کر بھی مرے دل کے ہو تم کتنے قریب

تم خزانہ ہو مرا پھر بھی ہوں میں بے حد غریب

ہو سکے تو معاف کر دینا حماقت کو مری

پیار میں مجبور ہو کر گھر تمہارے آگئی

میری خواہش تھی کہ بچوں کو تمہارے دیکھ لوں

اور اپنے ہاتھ سے تحفے تحائف ان کو دوں

میری نادانی سے وہ معصوم بچے ڈر گئے

تم نے اچھا ہی کیا جو مجھ پہ تم غُصہ ہوئے

میں نے ہی دشوار کی عرشیؔ تمہاری زندگی

میں تمہارے واسطے ہر پل بنی شرمندگی

…………………………………

آج میں پردہ اٹھا دیتی ہوں پر اِس راز سی

اور کہہ دیتی ہوں سارا ماجرا آغاز سی

جب بہت چھوٹے تھے تم بپتا کچھ ایسی آپڑی

حادثے میں اِک تمہاری آنکھ ضائع ہو گئی

تم میں ہو کوئی کمی مجھ سے سہا نہ جا سکا

میں نے اپنی آنکھ تحفے میں تمہیں کر دی عطا

خود اندھیرا لے لیا تم کو بصارت بخش دی

خود ٹھٹھر کر رہ گئی تم کو حرارت بخش دی

میں بہت خوش ہوں تمہاری زندگی بھرپور ہے

کیا ہوا بیٹے مری اِک آنکھ گر بے نور ہے

کاش پیارے میں بصیرت بھی تمہیں کرتی عطا

تم مرے چہرے سے آگے دیکھ لیتے اِک ذرا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Rate: 0