لینڈ کروزر تمہیں مبارک

        (ماخوذ)

 

ارشاد عرشی ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

میری گریجویشن میں بس گنتی کے دن باقی تھے

میری سوچوں میں اک لینڈ کروزر کب سے بسی ہوئی تھی

آتے جاتے ڈیلر کے شوروم پہ رک کر اس کو دیکھا کرتا تھا

باپ سے اپنی خواہش کا اظہار بھی کرتا رہتا تھا

اور یہ بھی معلوم تھا مجھ کو باپ مرا اک ارب پتی ہے

لینڈ کروزر کی قیمت تو میل ہے اس کے ہاتھوں کی

دن اور لمحے گنتے گنتی،گریجویشن کا دن آیا

باپ نے مجھ کو فون کیا اور اپنے کمرے میں بلوایا

میرے ماتھے کو چوما اور اپنے سینے سے لپٹایا

نیلے کاغذ میں لپٹا ،اک ڈبہ میری سمت بڑھایا

دیکھ کہ یہ چھوٹا سا ڈبہ میں چکرایا

میری امیدوں کا سورج دیکھ کے یہ تحفہ گہنایا

…………………………

بجھتے دل ،مردہ ہاتھوں سے میں نے اس ڈبے کو کھولا

اس میں اک قُرآن پڑا تھا

جس پر چمکیلے حرفوں میں میرا اپنا نام لکھا تھا

باپ مرا،تب ہونٹوں پر مُسکان سجائے میری جانب دیکھ رہا تھا

غُصے کی اک لہر نے میری سدھ بدھ کھوئی

میں نے اپنا پاؤں پٹخا

کھول کے دل چیخا چِلّایا،خوب بَکا جو منہ میں آیا

آگ کا ایک بگولا بن کر گھر سے نکلا

باپ کے تحفے کو ٹھکرایا

…………………………

بیت گئے پھر ماہ و سال

خوب کمایا میں نے مال

باپ کا پوچھا حال نہ چال

بیوی بچوں اور بزنس میں گھر کر سب کچھ بھول گیا میں

سوچا جب فرصت پائوں گا ،والد سے ملنے جاں گا

بزنس کے دھندوں میں گھر کر پل بھر کی فرصت نہ پائی

باپ کی موت کی جب تک مجھ بزنس میگنٹ کو خبر نہ آئی

والد نے اپنی سب دولت مجھ سرکش کے نام لکھی تھی

میں نادم سا کھویا کھویا اپنے والد کے گھر پہنچا

ہر شے جوں کی توں تھی گھر کی،جیسی کے میں چھوڑ گیا تھا

والد کے کمرے میں میز پہ وہی نیا قرآن پڑا تھا

جس پر چمکیلے حرفوں میں میرا اپنا نام لکھا تھا

جس کو میں ٹھکرا کے گھر سے بھاگ گیا تھا

……………………………………

بھیگی آنکھوں جلتے دل سے میں نے وہ قرآن اٹھایا

اس کو کھولا ،ورقے پلٹے

ٹن کر کے اک کار کی چابی ،میز کے شیشے سے ٹکرائی

چابی پر اک ٹیگ لگا تھا

جس پر میری گریجویشن کی تاریخ اور سال لکھا تھا

اور لکھا تھا

’’پیارے بیٹے لینڈ کروزر تمہیں مبارک‘‘

Rate: 0