لیلۃ القدر کے موقع پر نفس سے خطاب

 

ارشاد عرشی ملک

 

سُستیاں چھوڑ دے اُٹھ باندھ کمر، آج کی رات

آج تھکنا نہیں ،مغرب تا فجر،آج کی رات

 

رات جھکنے کی ہے جھکنے سے نہ ڈر ،آج کی رات

جُھک گئے دیکھ شجر اور حجر ،آج کی رات

 

کتنا آساں ہے بلندی کا سفر ،آج کی رات

دیکھ کیڑوں کے بھی اُگ آئے ہیں پر،آج کی رات

 

خوب ہے کیمیا دانی کا اثر ،آج کی رات

سنگ کیسے بھی ہوں بنتے ہیں گُہر،آج کی رات

 

فضل مولا کا ہو اور اِذنِ سفر ،آج کی رات

تو ملائک سے بھی بڑھ جائے بشر،آج کی رات

 

آنکھ لگتی نہیں عاشق کی تو لمحہ بھر بھی

اور کب جاگے گا ،جاگا نہ اگر ،آج کی رات

 

مکر دُنیا کے ہیں پھیلے ہوئے دائیں بائیں

دیکھ سجدے سے اُٹھانا نہیں سر،آج کی رات

 

غافلوں میں وہ کہیں نام نہ لکھ لیں تیرا

غول آئے ہیں فرشتوں کے اُتر ،آج کی رات

 

آج کی رات عمل کی ہے ،دلیلوں کی نہیں

چھوڑ دے ساری اگر اور مگر ،آج کی رات

 

بے خبر رات یہ رونے کی ہے سونے کی نہیں

چھوڑ آسائشیں بستر سے اُتر ،آج کی رات

 

آج طبیعت کی خرابی کے بہانے نہ بنا

خُوں رولائے گا تجھے تیرا حذر ،آج کی رات

 

آج جو عشق میں مر جائے ،وہ جی اُٹھے گا

کوئی چاہے تو ملے عمرِ خضر ،آج کی رات

 

آج مُڑتا نہیں خالی کوئی در سے اُس کے

آہی پہنچا ہے تو نادان ٹھہر،آج کی رات

 

یوں تو ہر حال میں اچھے ہیں ہنسی سے آنسو

گریہ زاری کا بڑا مول ہے پر ،آج کی رات

 

      مرتبے آج سبھی لے گئے رونے والے

       جن کو تا تھا تڑپنے کا ہنر ،آج کی رات

 

           اس کو حق ہے وہ کرے ناز سو جتنا چاہے    

      طے کیا جس نے اُجالوں کا سفر ،آج کی رات

 

       میری خاموش دُعا چیخ ہے سناٹے میں

لفظ گونگے ہیں مری چشم ہے تر ،آج کی رات

 

نور ہی نور بنا دے مرے مولا مجھ کو

مرے آنگن میں اُتر آئے قمر ،آج کی رات

 

تری جانب سے ملے کوئی اشارہ پیارے

کاش آجائے تسلی کی خبر ،آج کی رات

 

بخت عرشی ؔ کا سنور جائے جو رحمت ہو تری

لیلۃالقدر میسر ہو اگر ،آج کی رات

 

 

Rate: 0