لَیسَ لِلاِنسَانِ اِلّامَا سَعٰی

 

نہیں ہے انسان کے لئے مگر اُسی قدر ،جو اُس نے کوشش کی  (النّجم)

 

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

 

میں نے طاقت کا کیا اللہ سے اِک دن سوال

مجھ پہ ڈھیروں ڈھیر عرشیؔ مشکلیں دیں اُس نے ڈال

اور کہا یہ مشکلیں مضبوط کر دیں گی تجھے

یہ لبالب طاقت و قوت سے بھر دیں گی تجھے

…………………………………

میں نے دانائی ، ذہانت کا کیا اِک دن سوال

مسئلوں کے بحر میں اُس نے دیا مجھ کو اُچھال

اور کہا سُلجھا انہیں ، گر ہے فراست کی طلب

ذہن چمکانے کو بھی تو چاہیے کوئی کسب

…………………………………

میں نے جرائت کا کیا اللہ سے اِک دن سوال

میرے گرد و پیش اُس نے بُن دیا خطروں کا جال

اور کہا کر سامنا ان کا جو جرائت چاہیے

ہاں شجاعت کے لئے خوں میں حرارت چاہیے

…………………………………

میں نے خوش حالی کا دولت کا کیا اِک دن سوال

اُس نے مجھ کو عقل دے کر ہاتھ میں دے دی کدال

اور کہا کر خوں پسینہ ایک گر تو کر سکے

کوئی چکھ سکتا نہیں ہے مفت دولت کے مزے

…………………………………

میں نے مولا سے کیا اُس کی حمایت کا سوال

وہ مواقع دے کے بولا ، ہوش سے ان کو سنبھال

فائدہ ان سے اٹھا ، خود دست و بازو کو ہلا

جو بھی ان سے کام لے ، میں اُس کے پیچھے ہوں کھڑا

……………………………………

میں نے مولا سے کیا اُس کی محبت کا سوال

دے دئیے اُس نے مجھے مجبور و لاچار و نڈھال

اور کہا ، اِن سے محبت کر جو مجھ سے پیار ہے

اِن کی خدمت کر مری چاہت اگر درکار ہے

………………………………………

الغرض وہ کب دیا جس کا کیا میں نے سوال

جو تھا میرے واسطے بہتر ، دیا دامن میں ڈال

میرے اُلجھے ذہن کو دھویا کردیا اس کو اُجال

منصبِ انسانیت پر پھر کیا مجھ کو بحال

…………………………………

اس قدر مجھ پر نوازش کی ، کیا مجھ کو نہال

اُس کی حکمت ہے عجب اور اُس کی دانش ہے کمال

اپنی خواہش سے میں کچھ مانگوں نہیں ہے اب مجال

جو بھی چاہے ڈال دے جھولی میں ربِ ذولجلال

………………………………

Rate: 0