لبیک صد لبیک

(پردے کے بارے میں،اسلام قبول کرنے والی،مغربی معاشرے کی عورتوں کے تاثرات)

ارشاد عرشیؔ ملک

جب چُنی میں نے مسلماں ہو کے پردے کی ڈگر

اِک نئے’’ کے ٹو ‘‘ کی چوٹی کو مجھے کرنا تھا سر

 

مغربی ماحول کی پروردہ عورت کے لئے

حُکمِ پردہ تھا بہت انجان راہوں کا سفر

 

اہمیت کو میں سمجھ سکتی نہ تھی اسکارف کی

اب مگر پاتی ہوں میں اس پیڑ کے میٹھے ثمر

 

ایک احساسِ تحفظ مجھ کو پردے نے دیا

مطمئن رہتی ہوں میں خود کو مکمل ڈھانپ کر

 

مجھ کو چھونے کی نہیں ہرگز کسی میں اب مجال

چین سے کرتی ہوں اب میں اپنے روز و شب بسر

 

جو بھی ہے انمول شئے لازم ہے پوشیدہ رہے

کوئی عاقل چوک میں رکھتا نہیں لعل و گُہر

 

میں نے دھتکارا گذشتہ کا وہ طرزِ زندگی

رہ گیا پیچھے کہیں ناپاک آلودہ نگر

 

جس جگہ بھی جائوں اب ملتا ہے مجھ کو احترام

اوڑھنی نے کر دیا مجھ کو یکایک معتبر

 

ان گنت کپڑوں کی بک بک سے مری جاں چُھٹ گئی

جب سے پہنا ہے “عبایا” ،ختم سارا دردِ سر

 

اب مری جیکٹ ہے پردہ ، وہ بھی ہے بُلٹ پروف

اس پہ نظروں کی بُلٹ کرتی نہیں کوئی اثر

 

دیکھتی ہوں جب میں بے پردہ مسلماں عورتیں

سوچتی ہوں کیا یہ سب اسلام سے ہیں بے خبر

 

حُکم پر قُرآن کے لبیک صد لبیک ہے

راستہ واضح ہو جب تو کیا اگر اور کیا مگر

 

مجھ کو آزادی نہیں عرشیؔ، خُدا درکار ہے

میں بہت مسرور ہوں پردے میں قصہ مختصر

…………………………………

Rate: 0