لباسِ تقویٰ

 

ارشاد عرشیؔ ملک

 

ہے بہت سادہ و پُر کار لباسِ تقویٰ

عجز والوں کا ہے پندار لباسِ تقویٰ

 

قُربِ اللہ کا معیار لباسِ تقویٰ

ہم کو ہر لحظہ ہے درکار لباسِ تقویٰ

 

عیب جیسا بھی ہو عرشیؔ یہ چُھپا لیتا ہے

بُرد بار اور حیا دار لباسِ تقویٰ

 

خاک مت چھان دوکانوں کی اے نادان بشر

نہیں بِکتا سرِ بازار لباسِ تقویٰ

 

شب کی تنہائی میں اشکوں سے بُنا جاتا ہے

یونہی ہوتا نہیں تیاّر لباسِ تقویٰ

 

حُسنِ روحانی کو کچھ اور جِلا دیتا ہے

دل کے دُونے کرے انوار لباسِ تقویٰ

 

اُس کو بھاتا نہیں پھر کوئی لباسِ زریں

پہن لیتاہے جو اِک بار لباسِ تقویٰ

 

ہو جِسے نِت نئے فیشن کے لباسوں کی طلب

اُس کی نظروں میں ہے بے کار لباسِ تقویٰ

 

کِرم ِ دُنیا کو یہ خِلعت نہیں بخشی جاتی

کبھی پاتا نہیں نادار لباسِ تقویٰ

 

یہی اللہ کے بندوں کی زرہ بکتر ہے

مردِ مومن کا مدد گار لباسِ تقویٰ

 

ہو براھیمؑ سا ایمان تو کر سکتا ہے

نارِ نمرود کو گلزار لباسِ تقویٰ

 

نفرت و ظُلم و تکبر سے بچائو اس کو

چیتھڑے ہو نہ خبر دار لباسِ تقویٰ

 

اُس کی سرکار کے آداب رہیں پیشِ نظر

شرطِ لازم سرِ دربار لباسِ تقویٰ

 

دھجیاں اُس کی بنا دے گی خدا کی غیرت

جب بھی پہنے گا ریاکار لباسِ تقویٰ

 

گو شکستہ ہے بہت کشتیِ تدبیر مری

مری نائو کا ہے پتوار لباسِ تقویٰ

 

اشک آنکھوں میں ہیں اور ہاتھ میں کشکولِ دعا

اپنی زیبائش و سنگھار لباسِ تقویٰ

 

Rate: 0