فیس بُک

 

ارشاد عرشی ملک

 

چل پڑی ہے جب سے دُنیا میں ہوائے فیس بُک

مرد و زن چھوٹے بڑے سب ہیں فدائے فیس بُک

 

بن گئی ہے ایک آندھی اب صبائے فیس بُک

خشک پتے کی طرح سب کو اُڑائے فیس بُک

 

کیوں نہ تصویروں سے ہر بندہ سجائے فیس بُک

دیکھتے ہیں آج کل اپنے پرائے فیس بُک

 

گھر کے دروازوں کو چوپٹ کھول دینے کا ہے نام

ہر کسی کو حُسن کے جلوے کرائے فیس بُک

 

جلوہ گر لڑکے بھی ہیں اب لڑکیوں کے بھیس میں

آجکل شیطان نے اوڑھی ردائے فیس بُک

 

اس کے چُنگل میں پھنسے دیکھے ہیں پختہ عمر بھی

چُلبُلے پن سے بہت سوں کو لُبھائے فیس بُک

 

شوقِ چیٹنگ اِک نیا ہتھیار ہے ابلیس کا

اِک تموّج کی طرف ہر پل بُلائے فیس بُک

 

بھڑئیے بھی آ گئے ،بھیڑوں کی کھالیں اوڑھ کر

لُقمہِ تر سادہ لوحوں کو بنائے فیس بُک

 

اب تو اپنوں سے محبت اِک کہانی بن گئی

ایرے غیروں سے مگر پینگیں بڑھائے فیس بُک

 

دوستی کی بھوک نے ہر اِک کو پاگل کر دیا

اس لئے بڑھتی ہی جاتی ہے صدائےفیس بُک

 

اب تو گھر والوں کی صحبت میں بھی دل لگتا نہیں

ہر گھڑی حیلے بہانوں سے بُلائے فیس بُک

 

 

کوئی لائیکی”،کوئی”ٹیگی”،اور کوئی “شئیری” بنا

“بندگی”ہر پل کراتا ہے خدائے فیس بُک

 

لوگ “پردیسی” تھے پہلے آج “فیسی” ہو گئے

ہر کسی کے زیبِ تن ہے اب قبائے فیس بُک

 

اوّل اوّل فیس بُک ہوتی ہے انساں کے لئے
آخرش۔۔۔ انسان ہوتا ہے برائے فیس بُک

 

کس کو دوں الزام دل لٹُنے کا برقی پیج پر

وہ مری اپنی خطا تھی یا خطائے فیس بُک

 

اوڑھ کر آیا ہے شیطاں اِک سجیلی اوڑھنی

اوڑھنی کی اوٹ سے بجلی گرائے فیس بُک

 

کتنے ہی اچھے بھلے لیلیٰ و مجنوں بن گئے

دن چڑھے تک سوئیں ،راتوں کو جگائے فیس بُک

 

مندمل کیونکر کرے زخموں کو بے چہرہ ہجوم

گھاو کر دیتی ہے زخموں کو دوائے فیس بُک

 

 

آن لائین کون ہے اور آف لائین کون ہے

بس انہیں سوچوں میں گُم ہیں مبتلائے فیس بُک

 

ڈال دے کشکول میں الفاظ کے سکے کوئی

منتظر رہتے ہیں روز و شب گدائے فیس بُک

 

“ایڈ ” کرنے اور ہونے کی طلب ہے رات دن

یہ گنوائیں وقت اور ڈالر کمائے فیس بُک

 

آلہِ دجال ہے یہ مشتری ہوشیار باش

لے نہ لے تم کو شکنجے میں بَلائے فیس بُک

 

سب کو ہے اِس بانسری کی دُھن نے دیوانہ کیا

اپنی دُھن پر رات دن سب کو نچائے فیس بُک

 

مانگتے ہیں جس کی بد بُو سے پنہ چھوٹے بڑے

بیشتر اوقات ایسے گلُ کھلائے فیس بُک

 

فیس بُک گر بین ہو جائے تو ماتم ہو بپا

پیٹ کر سینے کو سب چلائیں ہائے فیس بُک

 

وہ قفس سے فیس بُک کے اس قدر مانوس ہیں

کھو نہ دیں ،ہوش و حواس اپنے رہائے فیس بُک

 

جو ہیں مہدی کی جماعت،اُن کا مقصد اور ہے

زیر کر سکتی نہیں اُن کو ادائے فیس بُک

 

جس مسیح کے وقت کی اللہ کو بھی قدر تھی

وقت اُس کے عاشقوں کا کیوں گنوائے فیس بُک

 

دوستو،دعوت الٰی اللہ کے لئے برتو اسے

تا تمہارا وقت نہ ہرگزچُرائے فیس بُک

 

لکھ دیا عرشی نے ،جو اللہ نے توفیق دی

اپنے پیاروں کے لئے کچھ ماجرائے فیس بُک

 

Rate: 0