فقیہہِ دیں کے لب پر طعنہ و دشنام دیکھے ہیں

نئے ہر دور میں ہم نے نئے آلام دیکھے ہیں

 

کبھی کافر ،کبھی دجّال ٹھہرایا گیا ہم کو

بہت سے نام رکھوائے ،بہت الزام دیکھے ہیں

 

بہت دھبے ہیں ان کے دامنوں پر خونِ ناحق کے

بہت سے لوگ جو باندھے ہوئے احرام  دیکھے ہیں

 

جبینوں پر نشاں سجدوں کے ہیں ،تسبیح ہاتھوں میں

مگر لہجے تمہارے ہم نے خوں آشام  دیکھے ہیں

 

ذرا ان مفتیانِ دین کے جُبے بھی کھنگالو

کشادہ آستینوں میں چھپے اصنام دیکھے ہیں

 

یہ دنیا سن نہیں پائی ہماری چُپ کا واویلا

خدا نے پر دلِ مظلوم کے کہرام دیکھے ہیں

 

مقدم کر لیا ہے ہم نے مولا کی عدالت کو

کٹہرے جب یہاں انصاف کے بدنام دیکھے ہیں

 

ستارو ،آؤ ناں دیکھو ذرا قبریں شہیدوں کی

کبھی یوں خاک میں سوئے ہوئے گلفام دیکھے ہیں

 

ہمارے دن بھی بدلیں گے ہماری عید بھی ہو گی

سوا سو سال تک ہم نے مہِ صیّام دیکھے ہیں

 

نئے درجات سے پہلے نئی اک آزمائش ہے

نئے انعام سے پہلے نئے آلام  دیکھے ہیں

 

بظاہر ناتواں ہیں پر نہیں ہم لوگ لا وارث

خدا ہو پُشت پر جن کی کبھی ناکام  دیکھے ہیں؟

 

بہت سے آئے تم جیسے جنہیں تھا زعمِ لسانی

تھے اوّل نامور پر بعد کو گم نام دیکھے ہیں

 

بہت ہے آرزو تم کو بھی پنجہ آزمائی کی

بہت سے ہم نے تم سے رستم و بہرام دیکھے ہیں

 

زباں کی تیغ برچھی بن کے پھر جاتی ہے بد گو پر

بہت ماضی میں ڈوئی اور لیکھو رام دیکھے ہیں

 

حصار جاہلیت سے نکل پاتے نہیں مُلا

اگر چہ لب پہ ان کے دعوائے اسلام دیکھے ہیں

 

سہام اللیل کے تم نے ہدف دیکھے نہ ہوں شائد

مگر ہم نے بہر صورت بہر ہنگام دیکھے ہیں

 

بنا بیٹھے ہو تم اپنے خدا کو بہرہ و گونگا

نہ سُنتا ہے ،نہ تم نے جلوہِ الہام دیکھے ہیں

 

عدو اپنے ہیں گمنامی کے قبرستان میں سوئے

پہ ڈنکے شہرتِ مہدؑی کے جگ میں عام دیکھے ہیں

 

کبھی تو رات روشن تھی کبھی تھی دوپہر کالی

بہت غمزے ترے اے گردشِ ایّام  دیکھے ہیں

 

بس اک پیغامِ حق دینے کی دھن ہے روز و شب ہم کو

نہ ہنگامِ سحر دیکھا نہ وقتِ شام  دیکھے ہیں

 

جکڑ پایا نہیں اس منچلے دل کو کوئی پھندہ

بہت پھیلے ہوئے حرص و ہوس کے دام دیکھے ہیں

 

زمانہ کی خطا کیا گر نہیں پہچانتا ہم کو

نہ لجنہ اس نے دیکھی ،نہ کبھی خداّم دیکھے ہیں

 

نوائے خود سری ہونٹوں پہ اپنے ہم نہیں لائے

دعائے نیم شب کے ہم نے جب انعام  دیکھے ہیں

 

خدا کے ہاتھ کا بویا ہوا پودا ہیں ہم عرشیؔ

جو اس کو کاٹنے آئے سدا ناکام  دیکھے ہیں

……………………………………

 

 

Rate: 0