عرفان  !  ٹہنی چھوڑ دے

 

(مرکزی خیال،ماخوذ)

 

ارشاد عرشی ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

 

نظم یہ ظاہر میں ہے ، پر در حقیقت آئینہ

جو بھی چاہے اس میں صورت دیکھ لے اپنی ذرا

…………………………………

اِک دفعہ کا ذکر ہے اِک آدمی عرفان تھا

راہِ عرفانی سے پر ناواقف و انجان تھا

 

سیر کا شوقین تھا کوہ و دمن میں گھومتا

تھا کبھی جنگل کبھی صحن ِ چمن میں گھومتا

 

اک پہاڑی راستے پر سیر کو تنہا گیا

لے رہا تھا وہ پہاڑوں اور چٹانوں کا مزہ

 

چل رہا تھا جس پہ تھی بے حد عمودی وہ چٹان

سوچ میں گُم تھا اچانک بٹ گیا اس کا دھیان

 

دفعتاً بگڑا توازن اور نیچے گِر گیا

گرتے گرتے ہاتھ اِک ٹہنی پہ اس کا جا پڑا

 

تھم گیا گرنا فضا میں وہ لٹک کر رہ گیا

پیڑ میں جیکٹ کا اِک کونہ اٹک کر رہ گیا

 

جھولتا تھا وہ ہزاروں فُٹ بلندی پر کہیں

تھی بہت ہی دور اس قسمت کے مارے سے زمیں

 

سوجھتا کچھ بھی نہ تھا چکرا گیا کہ کیا کرے

یہ تھا ناممکن ہمیشہ کے لئے لٹکا رہے

 

اس کے ماتھے پر پسینہ خوف کا آنے لگا

وہ مدد کے واسطے رہ رہ کے چِلانے لگا

…………………………………

کوئی آجائے مدد کو ہے خُدا کا واسطہ

گر کے مرنے کو ہوں میں لوگو خدانخواستہ

 

ہاتھ سے چُھٹنے کو ہے ٹہنی کرے کوئی مدد

زندگی باقی نہیں رہنی کرے کوئی مدد

 

ہے کوئی انسان گر اوپر تو رسی پھینک دے

یا کسی بھی اور طرح سے مدد میری کرے

 

دیر تک قسمت کا مارا یونہی چلاتا رہا

ہو کے پھر مایوس آخر کار وہ چُپ ہو گیا

 

چپ ہوا ہی تھا کہ آئی اس کے کانوں میں صدا

ہاں بھئی عرفان کیا تکلیف ہی؟ بتلا ذرا

 

میں ہوں تیرے پاس کیا سنتا ہے تو میری صدا؟

جانتا ہوں میں تجھے ، تو بھی ہے مجھ سے آشنا؟

…………………………………

چیخ کر بولا وہ ، ہاں میں آپ کو ہوں سُن رہا

میں یہاں لٹکا ہوا ہوں دیکھئے جُھک کر ذرا

 

پھر صدا آئی کہ ہاں میں دیکھ سکتا ہوں تجھے

میں بہت نزدیک ہوں اور خوب تکتا ہوں تجھے

 

بولا عرفاں کون ہو اے اجنبی ، اور ہو کہاں؟

نام میرا جانتے ہو کس طرح اے مہرباں؟

…………………………………

پھر صدا آئی کہ سن عرفان میں ’’اللہ‘‘ ہوں

میں کہ ہر پل اور ہر لحظہ ترے ہمراہ ہوں

 

ہڑبڑا کر بولا عرفاں ، کون اللہ؟ کیا خُدا؟

جس نے ’’کُن ‘‘ کہہ کر کئے تخلیق یہ ارض و سما؟

 

ہاں خُدا ہوں میں وہی تو چاہتا ہے مجھ سے کیا؟

میں ہوں اوپر اور نیچے ، دائیں بائیں ہر جگہ

 

بولا عرفاں کر مدد تجھ کو ترا ہی واسطہ

میں ترا بندہ ہوں بے یار و مدد لٹکا ہوا

 

تیری ہی کھا کر قسم کرتا ہوں وعدہ اے خدا

تو نے اس مشکل سے گر مجھ کو کیا زندہ رہا

 

میں ہمیشہ کے لئے بن جاؤں گا نوکر ترا

تیری خدمت میں رہوں گا بن کے میں چاکر ترا

 

تیری اُلفت کا نشہ دل پر مرے چڑھ جائے گا

ذات پر تیری بھروسہ اور بھی بڑھ جائے گا

 

ہر گنہ کو چھوڑ دوں گا نیک بن جائوں گا میں

شوق سے مسجد نمازوں کے لئے جاؤں گا میں

 

میں سدا رکھوں گا روزے اور دے دوں گا زکوۃ

کر لیا ہے میں نے وعدہ تھام اب جلدی سے ہاتھ

 

…………………………………

پھر صدا آئی بہت بڑھ بڑھ کے تو دعوے نہ کر

بعد میں ہوں گی یہ باتیں پہلے نیچے تو اُتر

 

اب جو کہتا ہوں تجھے سُن غور سے عرفان تو

میری حکمت اور تدبیروں پہ رکھ ایمان تو

 

…………………………………

بولا عرفاں تیری حکمت پر میرا ایمان ہے

قادرِ مطلق ہے تو ، غالب ہے تو رحمان ہے

 

بول بھی جلدی سے اب اللہ۔۔عرفاں کیا کرے؟؟

سرد لہجے میں کہا اللہ نے ’’ٹہنی چھوڑ دے”

……………………………………

سُن کے یہ فرمان اُس کا خوں بدن میں جم گیا

یوں لگا عرشیؔ کہ جیسے سانس اُس کا تھم گیا

 

اُس نے سوچا ٹھیک سے شائد نہیں میں سُن سکا

کیوں نہ پوچھوں اپنے خالق سے میں دوبارہ ذرا

 

ڈر کے بولا ’’اے خدا کہہ پِھر سے، عرفاں کیا کرے‘‘؟

پھر کہا اللہ نے ’’عرفان ! ٹہنی چھوڑ دے”

 

’’حوصلہ کر مجھ پہ رکھ ایمان ٹہنی چھوڑ دے

تھام لوں گا میں تجھے نادان ٹہنی چھوڑ دے”

…………………………………

ایک لمبی خامشی کفنا گئی عرفان کو

یوں لگا کہ چُپ کی ڈائین کھا گئی عرفان کو

……………………………………

بعد کچھ وقفے کے ، پھر عرفان چیخا ناگہاں

’’اور کوئی ہے ؟مدد کو جو مری آئے یہاں؟‘‘

…………………………………

سبق

ہم سبھی کا حال ہے ایسا ہی گر سوچیں ذرا

جب کسی مشکل میں ہوتے ہیں اچانک مبتلا

 

رو کے پھیلاتے ہیں اُس کے سامنے دستِ دعا

عرض کرتے ہیں کہ اس مشکل سے کر ہم کو رہا

 

اور وہ رستہ کوئی سادہ سا دیتا ہے بتا

جانتے ہیں ہم کہ آقا کی اسی میں ہے رضا

 

پھر بھی ویسا کر نہیں پاتے سہم جاتے ہیں ہم

ہاتھ غیر اللہ کی چوکھٹ پہ پھیلاتے ہیں ہم

 

ہم کو لگتی ہے وہ سادہ راہ بے حد خوفناک

گھیر لیتا ہے ہمیں اپنے ہی اندر کا نفاق

 

گر کریں اُس پربھروسہ اور ٹہنی چھوڑ دیں

اپنی اُمیدوں کا رُخ خالق کی جانب موڑ دیں

 

خود کو اس کے پیار کی آغوش میں پائیں گے ہم

بھول کر ہر غم سکون و چین پا جائیں گے ہم

…………………………………

 

 

Rate: 0