شادی کے موقع پر ماں کی بیٹے کو چند نصائح

 

ارشاد عرشی ملک

 

مرے بیٹے مرے لخت جگر ،آخر وہ دن آیا

مری آنکھوں کو جس کی چاہ نے برسوں ہے ترسایا

ہوا آخر مرے گھر پر خدا کے فضل کا سایہ

ترے سر پر سجا سہرا ،مرے گھر رونقیں لایا

تری دُلہن کی ڈولی لاوں گی یہ خواب تھا میرا

ابھی تو گود میں تھا تب سے دل بے تاب تھا میرا

 

یہ بندھن رُو برُو اللہ کے عہدِ رفاقت ہے

یہ اک حُکمِ خُدا ہے،یہ رسول اللہ کی سُنت ہے

بہت خوش بخت ہے وہ جس کی بیوی پاک سیرت ہے

اگر بیوی میں تقویٰ ہے تو نصف ایماں سلامت ہے

خدا کے نام کے خُطبے سے جس رشتے کو تم جوڑو

اسے پھر گندے برتن کی طرح مت دفعتاً توڑو

 

رسول اللہ کے ہر قول کی تائید ہو پیارے

اور اُن کے ہر عمل کی لازماً تقلید ہو پیارے

محبت کے مراسم کی سدا تجدید ہو پیارے

تری چھٹی کا دن بیوی کے دل کی عید ہو پیارے

نبی جی بیویوں سے بولتے ہنستے صلاح لیتے

ضرورت اُن کو گر ہوتی تو اچھا مشورہ دیتے

 

جو آٹا گوندھتی بیوی تو وہ پانی تھے لا دیتے

جو وہ چولہا جلاتی تھی تو وہ لکڑی بڑھا دیتے

کوئی کپڑا پھٹا ہوتا تو ٹانکا بھی لگا دیتے

کبھی بیوی کو اپنے ہاتھ سے لقمہ کھلا دیتے

اگر وہ اونٹ پر چڑھتی تو وہ گھٹنا بڑھاتے تھے

اگر وہ لڑکھڑا جاتی سہارے سے اُٹھاتے تھے

 

یہی انداز مہدی کا یہی کردار تھا گھر میں

وہ سب کے واسطے اک پیڑ سایہ دار تھا گھر میں

محبت تھی بہت بیوی سے اور ایثار تھا گھر میں

اسی باعث تو ہر پل سایہِ انوار تھا گھر میں

عمل کر کے طریقِ مُصطفےٰ پر ہم کو دکھلایا

گھروں کو پُر سکوں رکھنے کا اس نے راز سمجھایا

 

بہت نادان ہے بیوی کو جو باندی سمجھتا ہے

کسی پر بھی اسے غُصہ ہو بیوی کو جھڑکتا ہے

بہانے ڈھونڈ کر ہر روز وہ بیوی سے لڑتا ہے

اُٹھا کر ہاتھ پھر اس پر وہ رُستم خان بنتا ہے

جو بُھولے سے نمک سالن میں عرشی تیز ہو جائے

تو وہ ظالم ہلاکو خان اور چنگیز ہو جائے

 

ترے اخلاق اور کردار کا ہے امتحاں بیوی

گواہی دے گی روزِ حشر تیری بے زباں بیوی

گریباں سے تجھے پکڑے گی کل یہ ناتواں بیوی

کرے گی سامنے اللہ کے آہ و فغاں بیوی

سو ڈر اس وقت سے جب کچھ نہ تیری پیش جائے گی

نہ کوئی معذرت ،نہ کوئی حُجت کام آئے گی

 

کوئی خامی ہو گر اس میں تو پھر بھی حوصلہ رکھنا

ملامت اس کا مت کرنا نہ ہونٹوں پر گِلہ رکھنا

اثر اخلاص میں ہوتا ہے سو صدق و صفا رکھنا

نصیحت پیار سے کرنا نہ لہجہ چڑچڑا رکھنا

بہت خود غرض ہیں وہ مرد جو ہر پل اکڑتے ہیں

جو بیوی کو ہمیشہ پاوں کی جُوتی سمجھتے ہیں

 

اسے دل کے قریں رکھنا نہ اپنے سے جُدا کرنا

محبت سے دل اس کا جیتنا ،دائم وفا کرنا

اگر میکے کبھی جائے ،نہ ہرگز دل بُرا کرنا

کبھی طعنہ نہ دینا،ظرف کو اپنے بڑا کرنا

کہ اس نے باپ، ماں ،بھائی ،بہن چھوڑے تری خاطر

محبت میں تری ،رشتے نئے جوڑے تری خاطر

 

ہے اس کی تربیت لازم ،اگر دیں سے ہے بے گانہ

زباں سے علم پڑھانا،عمل سے دین سکھلانا

اگر پردے سے ہو باغی، ذرا حکمت سے سمجھانا

مدد قُرآن کی لینا ،اسے آیات دکھلانا

کرے تحقیر جو بیوی کی وہ بے درد ہے پیارے

وہ عورت کے مقابل آئے وہ نا مرد ہے پیارے

 

اگر تقویٰ ہے تجھ میں بات میں تیری اثر ہو گا

جو تُو حق پر نہیں قائم تو گھر زیر و زبر ہو گا

ترا قول و عمل،ہرگز نہ حرفِ معتبر ہو گا

خدا کے سامنے تو درحقیقت اک صِفرہو گا

لباس اس کا ہےتُو اور وہ ترا ملبوس ہے بیٹے

تُو عزت اس کی ہے اور وہ تری ناموس ہے بیٹے

 

بڑا دل تجھ کو کرنا ہے، بڑے پن سے نبھانا ہے

شریکِ زندگی روٹھے تو چاہت سے منانا ہے

ذرا سا رعب رکھنا ہے، زیادہ ناز اُٹھانا ہے

یونہی قوام ہونے کا تجھے قرضہ چُکانا ہے

یہ فرمانِ خداوندی ہے تُو نگران ہے گھر کا

تُو گھر کی چار دیواری ہے ،سائبان ہے گھر کا

 

ترا گھر کیا ہے اک چھوٹی سی پیاری سی ریاست ہے

نظام اس کا چلانے کو بھی دانائی کی حاجت ہے

جو اوّل چیز ہے ہر پل دُعا کرنے کی عادت ہے

ہے پھر ترک شکایت اور محبت کی سیاست ہے

رفاقت کے گھنے سائے ہوں گھر جنت بنے تیرا

تُو سُکھ دے اور سُکھ پائے یہی اِک خواب ہے میرا

 

میاں بیوی کے جھگڑوں کے یہ قصے گو پُرانے ہیں

مگر زد میں انہیں جھگڑوں کی اب کافی گھرانے ہیں

زباں پر تیر ہیں طعنوں کے گویّا تازیانے ہیں

خدایا رحم کر بجلی کی زد پر آشیانے ہیں

دلوں میں بُغض و کینہ ہے، زبانیں وار کرتی ہیں

گھڑی بھر میں گھروندے پیار کے مسمار کرتی ہیں

 

گھروندا ریت کا ہو جس طرح گھر کی یہ حالت ہے

بکھرنے کے لئے اس کو فقط دھکے کی حاجت ہے

نہ وسعت ہے دلوں میں اور نہ معافی کی عادت ہے

نہ رغبت دین و ایماں سے نہ قرآں کی اطاعت ہے

جہاں بھی تو رہے پیشِ نظر یہ ضابطہ رکھنا

سدا مسجد سے گھر والوں کا پختہ رابطہ رکھنا

 

اِدھر تہذیبِ مغرب کا گھروں پر وار ہے کاری

لگی ہے سب کو مثلِ چُھوت من مانی کی بیماری

سکھائی میڈیا نے مرد و زن کو ایسی ہشیاری

پُرانے دور کا فیشن بنی رسمِ وفاداری

یہی دجال کا فتنہ ہے استغفار لازم ہے

دُعائے نیم شب کا ہاتھ میں ہتھیارلازم ہے

 

Rate: 0