سیب کا پیڑ اور لڑکا

 

(مرکزی خیال ایک چینی کہانی سے ماخوذ)

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

 

جنگل میں اک پیڑ لدا تھا سیبوں سے

اک بھولا معصوم سا لڑکا اس سے کھیلا کرتا تھا

پیڑ پہ چڑھنا اور اترنا اس کو اچھا لگتا تھا

سیبوں کو ہر روز کُترنا اس کو اچھا لگتا تھا

اس کو پیڑ سے،پیڑ کو اس سے پیار بہت تھا

چاہت کا اظہار بہت تھا

……………………

اک دن جب وہ لڑکا آیا ،چُپ چُپ سا تھا

پیڑ نے پوچھا چُپ چُپ کیوں ہو ننھے ساتھی

مجھ سے کھیلو دل بہلائو

سیبوں کو جی بھر کر کھائو،باقی اپنے گھر لے جائو

………………………

لڑکا بولا مجھ کو سیب نہیں کھانے ہیں

مجھ کو تم کچھ پیسے دے دو،تا کہ میں بازار کو جائوں

مزے مزے کی چیزیں کھائوں،رونق دیکھوں دل بہلائوں

پیڑ نے ٹھنڈی آہ بھری،پھر ہنس کر بولا

پیسے میرے پاس نہیں ہیں

سیب مرے سارے لے جائو،ان کو بیچو رقم کمائو

مزے مزے کی چیزیں کھائو

شہر میں گھومو موج منائو

………………………

لڑکے نے سب سیب سمیٹے

خوش خوش وہ جنگل سے لوٹا

کافی موسم بیت گئے،پھر اک دن اس کا دل گھبرایا

لوٹ کے وہ جنگل کو آیا

لیکن اب وہ لڑکا کب تھا،مرد تھا ایک سجیلا بانکا

………………………

پیڑ چہک کر بولا

بیٹے ،آو  آومجھ سے کھیلو

بے زاری سے مرد  وہ بولا،کھیلوں کے دن بیت چکے ہیں

تم کو میں بچہ لگتا ہوں،اب میں خود بچوں والا ہوں

سر پر میرے بوجھ بہت ہیں

گھر کے دروازوں کی خاطر مجھ کو لکڑی کی حاجت ہے

……………………………

پیڑ محبت سے یوں بولا

فکر کی اس میں بات ہی کیا ہے

میں صدقے ،میں واری تم پر ،گو میری اوقات ہی کیا ہے

آو میری شاخیں کاٹو ،ان کو شوق سے تم لے جاو

گھر کے دروازے بنواو

مرد نے ساری شاخیں کاٹیں ،خوش خوش اپنے گھر کو لوٹا

……………………………

کافی موسم بیت گئے تو اک دن پھر جنگل میں آیا

ٹنڈ منڈ خالی پیڑ کے دل میں اک ہریالی سی لہرائی

ہونٹوں پر مسکان سجائی،ہنس کر بولا

آو آ کر مجھ سے کھیلو

تب وہ مرد بگڑ کر بولا،مجھ کو اتنی فرصت کب ہے

میرے بچوں کو دریا پر پکنک کرنے کو جانا ہے

ان کو کشتی کی حاجت ہے

پیڑ چہک کر بولابیٹے

شکر ہے میرا تنا ہے باقی،اس کو کاٹو اور لے جاو

اس سے اک کشتی بنواو،مزے اڑاو

مرد نے بجلی کے آرے سے بوڑھے پیڑ کے تن کا کاٹا

اک گاڑی پر لاد کے اس کو یہ جا وہ جا

………………………………

برسوں بیتے آخر اک دن تھکا تھکا ایک بوڑھا لوٹا

الجھے الجھے بال تھے جس کے اور مسلسل کانپ رہا تھا

اس کو دیکھ کے پیڑ کا  اپنادل بھر آیا

اندر اندر ، کانپ گیا ،کافی گھبرایا

تھکے تھکے لہجے میں بولا

میرے بیٹے ،کاش کہ مجھ پر سیب ہی ہوتے

تم کواپنے سیب کھلاتا

کاش کہ میری شاخیں ہوتیں

تم کو میں ان پر چڑھاتا،خوب ہنساتا،موج مناتا

………………………………

بوڑھا بولا

اب میں پیڑوں پر چڑھنے کے قابل کب ہوں

نہ ہی منہ میں دانت ہیں میرے،جن سے سیبوں کو کھا پاوں

یہ سب سن کر پیڑ کا بوڑھا دل بھر آیا

بولا میری جڑیں ہیں باقی

ان کو کاٹو اور لے جاو

انہیں جلائو ،جسم کو کچھ گرمی پہنچاو

………………………………

آنسو پی کر بوڑھا بولا

مجھ کو کہیں نہیں جانا ہے

جیون کی اِس دوڑ سے اب میں اُوبھ چکا ہوں

تھکا ہوا ہوں

کٹے تنے پر سر کو رکھ کر،کچھ لمحے آرام کروں گا

پھیلی بانہوں جیسی یہ جڑہیں تمہاری میری حاجت کو کافی ہیں

جب وہ بوڑھا کٹے تنے پر سر کو رکھ کر لیٹ گیا

شکر کے آنسو پیڑ کی آنکھوں میں لہرائے

بوڑھے کو آغوش میں لینے کی خاطر بازو پھیلائے

برسوں بعد اس لمس نے اس کے دل میں تازہ پھول کھلائے

اس کو خود پر مان تھا عرشیؔ ،آج بھی میں کچھ دے سکتا ہوں

اپنے بیٹے کو آغوش میں لے سکتا ہوں

……………………………

سیبوں کا یہ پیڑ  لگا ہے میرے تیرے سب کے گھر میں

قربانی اور مہر و وفا کے سیبوں سے جو لدا ہوا ہے

اس کو جانو اور پہچانو

پیڑ ہے یہ ماں باپ کا سایہ

ان کا سانس غنیمت جانو

…………………………

Rate: 0