سب ٹھیک ہے

 

ارشاد عرشی ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

 

ہو رہا ہے جو بھی کچھ، اچھا بُرا سب ٹھیک ہے

چُپ رہو ،سہتے رہو ،ہر اک جفا سب ٹھیک ہے

 

بھینچ کر اپنے لبوں کو زندگی جی لو یہاں

مت کرو مشکل میں خود کو مبتلا ،سب ٹھیک ہے

 

رائے کا اظہار کر کے ،خود کو تنہا مت کرو

پھر کہو گے ،کیوں نہ ہم نے بھی کہا سب ٹھیک ہے

 

جرم ہے گویائی بھی ،بینائی بھی، شنوائی بھی

بس یہی کہنا ،کہ جو دیکھا سنا سب ٹھیک ہے

 

گر ہے سینے میں گھٹن ،تو ہے تمہارا ہی قصور

ورنہ شہرِ یار کی آب و ہوا ،سب ٹھیک ہے

 

قتل ہو کر دستِ قاتل کو مبارک باد دو

با ادب ہو کر کہو پھر مرحبا ،سب ٹھیک ہے

 

مُردنی پیڑوں پہ ہے ،پھولوں کے چہرے زرد ہیں

کہہ رہے ہیں چند طالع آزما ،سب ٹھیک ہے

 

وہ جو آئینِ وفا تھا ،اب ہے آئینِ جفا

جب کسوٹی گُم ہوئی کھوٹا کھرا ،سب ٹھیک ہے

 

قافلے لٹتے چلے جاتے ہیں اک کے بعد ایک

اور فرماتے ہیں اپنے راہنما ،سب ٹھیک ہے

 

چھوڑ دو یہ تجزیے کرنا ،یہ کڑھنا رات دن

آس کے مدھم دیے کو دو بُجھا ،سب ٹھیک ہے

 

فکر کس کو ہے خدا راضی ہے ،یا ناراض ہے

ناخدا راضی رہے تو معاملہ سب ٹھیک ہے

 

سوچ کی سولی پہ چڑھ کر خود کو مت ہلکان کر

تو بھی عرشیؔ مسکرا خوشیاں منا ،سب ٹھیک ہے

٭٭٭٭٭٭

 

Rate: 0