سب سہارے مسُترد

 

ارشاد عرشی ملک

 

Arshimalik50@hotmail.com

 

اِک خدا کا ہے سہارا،سب سہارے مسترد

کر دیے طوفان میں ہم نے کنارے مسترد

 

غیر کے در کی غُلامی ،موت عاشق کے لئے

خواب میں بھی غیر کو گر ،وہ پکارے،مسترد

 

چاہیے دل میں رہے ہر وقت عُقبیٰ کا خیال

جو بھی دُنیا میں بہت پاوں پسارے،مسترد

 

سب اصول اور قاعدے ،اس دور میں بدلے گئے

کر دیے انسان نے پچھلے شُمارے ،مسترد

 

زندگی جہد مسلسل ہے مہد سےتا لحد

راستے میں جو تھکے ہمت کو ہارے،مسترد

 

چھوڑ لفاظی،عمل سے دےمحبت کا ثبوت

اب یہ لفظوں سے بنے خالی غبارے،مسترد

 

شخصی آزادی کا دلدادہ ہے، انساں آج کا

آج ہیں ایثار کے جذبات سارے،مسترد

 

آج کے انسان کی خواہش ،مکمل اختیار

عش کے جذبے ہوں گر بے اختیارے،مسترد

 

سادہ دل بندہ ہوں ،مجھ سے صاف سیدھی بات کر

یہ اشارے ،یہ کنائے ،استعارے،مسترد

 

معذرت سے بات بن جائے گی ،تھا ہم کو گماں

عُذر لیکن کر دیے اس نے ہمارے،مسترد

 

ڈوب جانے کی تمنا ،بن کے حسرت رہ گئی

کر گئے شوریدہ سر موجوں کے دھارے ،مسترد

 

اِک اُچٹتی سی نظر بھی اپنی قسمت میں نہ تھی

میں نے اُن قدموں پہ جو بھی پھول وارے،مسترد

 

زندگی کی رونقیں ،سب آپ کی قربت سے تھیں

آپ کی فرقت میں ہیں جو  دِن گزارے،مسترد

 

آنکھ کی پُتلی سے اُن کا نقش مٹتا ہی نہیں

گو کریں ماں باپ کو آنکھوں کے تارے ،مسترد

 

آگ مت اُگلو زباں سے،راکھ ہو جاتے ہیں دل

محفلِ یاراں میں یہ شعلے ،شرارے ،مسترد

 

قوم اپنے راہنماوں سے بہت مایوس ہے

وہ الیکشن میں ہوں خواہ جیتے کہ ہارے،مسترد

 

آپ کے وعدے ہیں ڈھیلے،ملگجے اور لجلجے

اس لئےتازہ بیاں خستہ ،کرارے،مسترد

 

کب تلک ترسیں گے ہم ادنٰی ضرورت کے لئے

آپ کے بھی آج سے وارے نیارے ،مسترد

 

بن گئے جو ہیرا پھیری، چور بازاری کے گڑھ

کر رہی ہے قوم وہ سارے ادارے،مسترد

 

خود سہارا بن گیا ،اپنا وہ ربِ ذوالجلال

ہم نے جب عرشؔیؔ کئے سارے سہارے،مسترد

 

 

 

 

 

 

Rate: 0