ریت پر قدموں کے نشاں

 

(مرکزی خیال  ،  انگریزی ادب سے ماخوذ)

 

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

 

یاد میں اللہ کی رو رو کے سوئی ایک شب

رات کے پچھلے پہر اک خواب پھر دیکھا عجب

ریگِ ساحل پر چلی جاتی تھی میں

اور میرے ساتھ تھا میرا خدا

مثلِ یارِ مہربان و آشنا

میں چلی ہمراہ اس کے دور تک

اک تجلی کی طلب میں طُور تک

……………………

دفعتاً اک روشنی آکاش پر آئی نظر

سامنے آئے مرے بیتے ہوئے شام و سحر

آسماں کے پردہِ سیمیں پہ گویا اس گھڑی

میری بیتی عمر کی اک فلم سی چلنے لگی

مجھ کو خوشیاں بھی نظر آئیں وہاں دُکھ درد بھی

لہلہاتے باغ بھی تھے اور موسم زرد بھی

…………………………

اِن مناظر میں نظر آتے رہے

ریت پر نقشِ کفِ پا جا بجا

تھے کہیں پر دو کے قدموں کے نشاں

اور کہیں پر ایک تھا تنہا رواں

…………………………

گِھر گئی یہ دیکھ کر میں اک عجب جنجال میں

جو تھے گذرے چین سے ان سارے ماہ و سال میں

ساتھ تھا میرے خدا ،مانندِ یارِ مہرباں

ریگِ ساحل پر تھے، ہم دونوں کے قدموں کے نشاں

……………………………

پھر وہ دن آئے کہ جب مشکل مرے حالات تھے

کرب اور بے چینیوں سے پُر مرے دن رات تھے

میرے بیتے وقت میں،جو دن تھے بوجھل دُکھ بھرے

جب شکستہ دل تھی میں اور زخم تھے میرے ہرے

ابتلائوں نے مجھے ہر رُخ سے تھا گھیرا ہوا

ہر کسی اپنے پرائے نے تھا منہ پھیرا ہوا

ان دنوں بھی ریت پر تھے گرچہ قدموں کے نشاں

فردِ واحد کے مگر چلنے کو کرتے تھے عیاں

………………………

میری بیتی زندگی کی فلم یہ چلتی رہی

ایک رنجش سی مرے دل میں مگر پلتی رہی

خواب میں شکوہ کیا میں نے لبِ نادان سی

میں نے تو دامن ترا تھاما تھا مولا مان سی

اے خدا میرے تجھے کیا یاد ہے وعدہ ترا

جو کہ تو نے مجھ شکستہ دل سے تھا اک دن کیا

گر ترے احکام کی میں پیروی کرتی رہی

استقامت سے قدم اس راہ پر دھرتی رہی

ساتھ تو میرے رہے گا میرے ماہ و سال میں

تُو مجھے تنہا نہ چھوڑے گا کسی بھی حال میں

………………………………

دیکھ کر عمرِ گذشتہ کا مگر یہ ماجرا

ہو گیا ہے دل پریشاں اے مرے پیارے خدا

میں نے دیکھے ہیں جو منظر دُکھ بھرے لمحات کے

جب مجھے اُمید تھی بس ایک تیری ذات سے

ان مناظر میں مرے اللہ میرے مہرباں

ریت پر ہیں ایک ہی رہرو کے قدموں کے نشاں

چھوڑ کر تنہا مجھے تُو جا چھپا تھا تب کہاں

………………………

میرا شکوہ سُن کے عرشیؔ مسکرا اٹھا خدا

پھر محبت سے مجھے لپٹا کے یوں اس نے کہا

میری بچی کس لئے مجھ سے ہے اتنی بدگماں

جن دنوں تُو دیکھتی ہے اک کے قدموں کے نشاں

گود میں تجھ کو اُٹھا رکھا تھا میں نے جانِ جاں

…………………………

Rate: 0