رہ جائے گا

 

ارشاد عرشی ملک

 

میری قسمت میں یہ دردِ لا دوا رہ جائے گا

تیرے ہونٹوں پر ترا اذنِ شفا رہ جائے گا

 

آگیا جس دن بُلاوا،سب دھرا رہ جائے گا

یونہی بے مقصد اُٹھا دستِ دعا، رہ جائے گا

 

موند کر آنکھیں جو سوئیں گے تو جاگیں گے نہیں

ایک دن یہ بولتا بُت ،بے صدا رہ جائے گا

 

اور مت کر بے رُخی ،بس چھوڑ کافی ہو چُکا

یاد رکھ ورنہ مجھے تو ڈھونڈتا رہ جائے گا

 

جانے کب تک ساتھ دے گی تیرے وعدے کی مٹھاس

جانے کب تک کھٹ مٹھا یہ ذائقہ رہ جائے گا

 

مت کیا کر ہر گھڑی یوں چھوڑ کر جانے کی بات

تُو گیا تو بول میرے پاس کیا  رہ جائے گا

 

ایک اِک کر کے سبھی فانوس بجھتے جائیں گے

اور تاریکی سے لڑنے کو دیا رہ جائے گا

 

چھوڑ کر جاتے ہو اور کہتے ہو اچھا خوش رہو

کیسے پانی سے بھرا ،تِڑکا گھڑا رہ جائے گا

 

ختم نہ ہو پائے گی، اُس بے وفا کی پیش و پس

طاقچے پر وقت کے وعدہ پڑا رہ جائے گا

 

بزم سے بِن معذرت اُٹھ جائے گا وہ دفعتاً

میرے ہونٹوں پر ادھورا ماجرا ،رہ جائے گا

 

شہر بھر کی اُنگلیاں اُٹھیں گی میری ہی طرف

وہ جھٹک کر اپنا دامن ،بے خطا رہ جائے گا

 

رفتہ رفتہ زخم جو تن پر لگے ،بھر جائیں گے

گھاو جو من پر لگا،بے شک ہرا رہ جائے گا

 

مجھ کو ہر الزام دے کر آپ تو سو جائیں گے

میری آنکھوں میں سدا کا رت جگا، رہ جائے گا

 

دیکھ مت رستہ بدل ،یوں بیچ میں منجدھار کے

جو کنارے جا لگا،اُس کو گلہ، رہ جائے گا

 

ہو نہ پائے گا مکمل یہ من و تُو کا ملن

من اگر مل بھی گئے تو فاصلہ رہ جائے گا

 

تُو چُھڑا کر ہاتھ اک دن دفعتاً کھو جائے گا

اور میری جیب میں تیرا پتہ رہ جائے گا

 

قتل بھی کر دے گا اور احسان بھی رکھے گا وہ

میرے ہاتھوں میں مرا ہی خوں بہا رہ جائے گا

 

جانے والوں کو بُلائیں گے کئی رستے نئے

اس کا کیا ہو گا جو کھڑکی میں کھڑا رہ جائے گا

 

اُن کے ہونے سے بھی بھر پایا نہیں ہے آج تک

وہ جو کہتے ہیں مرے پیچھے خلا رہ جائے گا

 

ایک دن اس دور کی صف بھی لپیٹی جائے گی

ہاں مگر باقی فقط نامِ خدا رہ جائے گا

 

تلخ باتوں کے نہ کنکر بے ارادہ پھینکیے

بال گر شیشے میں عرشی آ گیا ،رہ جائے گا

 

 

Rate: 0