روز کا منظر

(مرکزی خیال ماخوذ)

ارشاد عرشی ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

ہم نے مانا اس جہاں کی لذتیں ہیں بے مثال

پر انہیں کی تہہ میں ہے عرشیؔ چھپا رنج و ملال

 

دفعتاً آہوں میں کھو جاتے ہیں سارے قہقہے

موت کی بانہوں میں سو جاتے ہیں سارے چہچہے

 

راز اس کا میں بیاں کرتی ہوں اِک تمثیل سے

بات اِس عنوان پر ہو گی ، ذرا تفصیل سے

 

ہنستا گاتا شخص اِک جنگل میں تھا محو ِ سفر

کچھ بھی اس کا نام رکھ لو ، زید کہہ لو یا بکر

 

شیر کی آہٹ اچانک اُس کے کانوں نے سُنی

مُڑ  کے  دیکھا  واقعی  جب  شیر  تو  جان  پر  بنی

 

جاں بچانے کو بہت بھاگا پہ تھک کر گر پڑا

اُس کو اِک گڑھا ، یکایک پھر نظر آیا بڑا

 

اُس نے چاہا کود کر اس میں بچا لوں جان کو

ٹال دوں اِس طور اپنی موت کے طوفان کو

 

کودنے کو تھا گڑھے میں اژدھا آیا نظر

یوں لگا گویا ، وہ برسوں سے تھا اُس کا منتظر

 

خوف و دہشت سے دماغ اس شخص کا چکرا گیا

شیر پیچھے ، اژدھا آگے ، بہت گھبرا گیا

 

دفعتاً اِک پیڑ اس مجبور کو آیا نظر

جاں بچانے کو وہ چڑھا ، دوڑ کر اس پیڑ پر

 

خوں بدن میں جم گیا دیکھا جو نیچے جھانک کی

پیڑ کی جڑ کو تھے دو چوہے مسلسل کاٹتے

 

اِک کی رنگت تھی سفید اور دوسرا کالا سیاہ

دیکھ کر یہ ماجرا سُکھ چین اس کا اُڑ گیا

 

اژدھا اور شیر نیچے ، پیڑ بھی کٹنے کو تھا

کرچیوں میں زندگی کا جام اب بٹنے کو تھا

 

اتفاقاً شہد کا چھتہ اُسے آیا نظر

شہد پینے میں ہوا مشغول وہ غافل بشر

 

اژدھا اور شیر دونوں بن گئے وہم و گماں

چاٹتی تھی شہد کو ناداں کی چسکوری زباں

 

تھا اسی لذت میں گُم کہ پیڑ کی جڑ کٹ گئی

زیبِ تن تھی جو حسیں پوشاکِ ہستی ، پھٹ گئی

 

پھاڑ ڈالا شیر نے اُس خوف سے ہلکان کو

ایک لمحے کی بھی مہلت دی نہ اُس نادان کو

 

خون اُس کا پی کے گڑھے میں دیا اُس کو گِرا

اژدھے نے اپنے جبڑوں میں لیا اُس کو چبا

 

…………………………………

غور کر اب اے عزیزِ من کہ یہ قصہ ہے کیا؟

کون ہے تُو؟ اس کہانی میں ترا حصہ ہے کیا؟

 

شیر مثلِ موت ہے ، اور مثلِ جنگل ہے جہاں

زندگانی کے عقب میں موت رہتی ہے نہاں

 

جب سے پہلی سانس ہے انسان نے دنیا میں لی

شیر کی مانند تب سے موت ہے پیچھے لگی

 

گڑھا مثلِ قبر ہے اور اژدھا اعمالِ بد

گھیر لیں گے قبر میں پڑتے ہی سب افعالِ بد

 

اور ہے معلوم سب کو ہی کہ دو چوہے ہیں کیا؟

زندگی کے رات دن ہیں ، دن سفید اور شب سیاہ

 

پیڑ مثلِ زندگی ، اور شہد اس کی لذتیں

موت کو یکسر بُھلا دیتی ہیں  شان و شوکتیں

 

رغبت ِ دنیا ، بُھلا دیتی ہے فکرِ آخرت

چھینتی ہے موت پھر یک لخت ساری تمکنت

 

پھر بجز حسرت ندامت ساتھ کچھ جاتا نہیں

روز کا منظر ہے پر ہم کو نظر آتا نہیں

…………………………………

Rate: 0