دُعا کی بھوک

 

ارشاد عرشی ملک

 

زخموں کی بھوک ہے ،کہیں دستِ شفا کی بھوک

ہم کو ہے بھوک درد کی ،تم کو دوا کی بھوک

 

پرواز ہر پرند کی ،اپنی فضا میں ہے

تم ہو انا پسند ،ہمیں التجاء کی بھوک

 

پھر قبلہ رُو ہیں کر کے وضو آنسووں سے ہم

پھر اس شکستہ دل کو لگی ہے، دُعا کی بھوک

 

گو گریہ زاریوں میں زمانے گذر گئے

لیکن ابھی مٹی نہیں آہِ رسا کی بھوک

 

دردوں کی ہےسہار ہمیں ،عرض ہے تو یہ

تنہا اُداس دل کو ہے، درد آشنا کی بھوک

 

خوشیاں ملیں کہ غم ملے، راضی ہیں جان و دل

کس سے چُھپی ہے آپ کے اہلِ رضا کی بھوک

 

بیٹھے ہیں در پہ آپ کے جھولی پسار کر

ہر آن دل کو آپ کے دستِ عطا کی بھوک

 

چاہے وفا ہو چاہے جفا ،سب ہمیں قبول

کچھ  تو عطا ہو ہم کو لگی ہے بلا کی بھوک

 

بس اِک نظر، اِک اور نظر، اور اِک نظر

مٹتی نہیں ہے آپ کے در کے گدا کی بھوک

 

اس شرم سار دل پہ وہ لُطف و کرم ہوا

نیکوں کے دل میں جاگ اُٹھی ،اِک خطا کی بھوک

 

میلے سے اب جہان کے عرشی غنی ہوئے

دُنیائے بے وفا سے کبھی تھی وفا کی بھوک

 

Rate: 0