غزل

ارشاد عرشی ملک

دل ہو یا کہ گھر عرشی ،جب بسانا پڑتا ہے

اِک نئے طریقے سے سب سجانا پڑتا ہے

 

نت نئے تقاضوں سے توڑ پھوڑ ہوتی ہے

کچھ بچانا پڑتا ہے،کچھ گرانا پڑتا ہے

 

سب پُرانے بکسوں کی جھاڑ پونچھ ہوتی ہے

خط ،رومال،تصویریں ،سب جلانا پڑتا ہے

 

رابطے گذشتہ کے بے محل سے لگتے ہیں

بے محل روابط کو بھول جانا پڑتا ہے

 

آنے والی خوشیوں میں پچھلے غم سِسکتے ہیں

کچھ نیا جو پانا ہو کچھ گنوانا پڑتا ہے

 

سب کے سب گئے موسم یاد بنتے جاتے ہیں

اور بیچ میں عرشی اِک زمانہ پڑتا ہے

Rate: 0