دل نہ بہلے گا مرا

 

ارشاد عرشیؔ ملک

 

ظاہری آسودگی سے دل نہ بہلے گا مرا

کاغذی جھوٹی خوشی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

مجھ کو تنہا درد میں سلگے ہوئے دل کی قسم

رسمی محفل کی ہنسی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

تشنہ لب ہوں میں مجھے تشنہ لبی پر ناز ہے

مانگی تانگی بے خوددی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

ہے مرے پیشِ نظر اب اُس کا حُسنِ دائمی

اب تو عشقِ عارضی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

اب رگ و ریشے میں قرآں کی محبت رچ گئی

اب قصیدے مثنوی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

حُکم ہے تیرا تو دنیا کا بھی میلہ دیکھ لوں

ورنہ اس دردِ سری سے دل نہ بہلے گا مرا

 

شعر لکھتی ہوں کہ دل کے درد کو ہلکا کروں

سچ تو یہ ہے شاعری سے دل نہ بہلے گا مرا

 

بچپنے کی ہیں یہ باتیں بچپنے کے خواب ہیں

اب سرورِ عاشقی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

تیری قربت کی طلب ہر آن پہلے سے سوا

جان لطفِ یک شبی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

ابنِ مریم آچکا ہم اس کے در کے ہو چکے

حنبلی اور مالکی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

دل میں گر جذبے کی سچائی نہیں تو کچھ نہیں

اس غرض کی دوستی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

عبد کی ہے شان ہر ساعت مکمل بندگی

شوقِ طرزِ صاحبی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

شاعری کرنے کو رمزِ شاعری بھی چاہیے

رات دن کی خوشخطی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

ہو گیا ہے کاروبارِ زندگی سے دل اُچاٹ

اب کسی بھی دل لگی سے دل نہ بہلے گا مرا

 

جیسے تیسے کر کے عرشیؔ کاٹتی ہوں زندگی

حالانکہ اس بے دلی سے دل نہ بہلے گا مر

Rate: 0