خدا کی کشیدہ کاری

 

ارشاد عرشی ؔ ملک

arshimalik50@hotmail.com

 

یاد ہیں بچپن کے دن جب کام پر جاتی تھی ماں

 

اور میرے دن گذرتے تھے مری دادی کے ساتھ

 

دیکھتی تھی ہاتھ میں دادی کے لکڑی کا فریم

 

جس پہ وہ کپڑا چڑھاتی تھی بڑی ہی چاہ سے

 

کاڑھتی رہتی تھی ہر پل کچھ نہ کچھ

 

دائیں جانب میز پر تھی ٹوکری ،جس میں تھے ہر رنگ کے دھاگے پڑے

 

………………………………………

کھیلتی رہتی میں گڑیوں سے وہاں

 

تھا بہت معصوم سا میرا جہاں

 

تھک کے جب میں لیٹتی قالین پر

 

دیکھتی نیچے سے کپڑا اور فریم

 

اُلجھے دھاگے اور گانٹھیں دیکھ کر میں سوچتی

 

کیوں کیا کرتی ہے دادی یہ مشقت رائیگاں

 

کچھ بھی بن پاتا نہیں دادی سے بے شک و گماں

 

…………………………………

 

ایک دن یہ بات میں نے اپنی دادی سے کہی

 

جس کو سُن کر میری دادی کھلکھلا کرہنس پڑی

 

ایک دو لمحے تو مجھ کو پیا رسے تکتی رہی

 

پھر کہا  نادان مُنی اُٹھ ذرا ،اِس سمت آ

 

تا کہ تو دیکھے کہ اس جانب ہے کیا کچھ بن رہا

 

خاک آئے گا نظر ،نیچے سے جب دیکھے گی تو

 

آ ادھر اُوپر سے جب دیکھے گی تو سمجھے گی تُو

 

…………………………

میں نے جب دیکھا کھڑے ہو کر بہت سے پھول تھے

 

جن کے دامن میں تھا چھوٹا سا مکاں

 

اُٹھ رہا تھا جس کی چمنی سے دھوآں،پاس ہی ننھا سا چشمہ تھا رواں

 

الغرض بے حد حسیں منظر تھا وہ ،دیکھ کر مجھ کو بہت حیرت ہوئی

 

بات دادی کی مرے دل کو لگی ،اور گہری سوچ میں میں پڑ گئی

 

…………………………

 

آج برسوں بعد عرشیؔ دیکھ کر،کُرّہِ دنیا کی یہ اُلجھی’’ پزل”

 

مذہبوں کے نام پر جنگ و جدل ،بھوک ،غربت اور ناانصافیاں

 

قتل و غارت ظلم اور بے چینیاں

 

ذہن میں اُٹھتے ہیں جب میرے سوال،اس قدرابتر ہے کیوں دُنیا کا حال

 

یاد آجاتا ہے بچپن کا سماں،اپنی دادی کی کشیدہ کاریاں

 

سوچتی ہوں کاڑھتا ہے کچھ خدا،جو سمجھ سے ہے بشر کی ماورا

 

اُلجھے دھاگے اور گانٹھیں اِس طرف

 

جانے کیا کچھ بن رہا ہے اُس طرف

 

……………………………

Rate: 0