خُدا اور میں

 

(ماخوذ انگریزی ادب)

 

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

 

کی دعا میں نے خدا سے ، دور کر میری انا

میں ہوں برسوں سے غرور و سرکشی میں مبتلا

میرے مولا نے کہا تیری غلط ہے التجاء

چھوڑنی ہے خود تجھے اپنی انا اور سرکشی

کام میرا عقل دینا تھا ، سو میں نے تجھ کو دی

…………………………………

کی دعا کہ دے مرے معذور بچے کو شفا

کس لئے معذور ہے ،کیا اس نے آخر کی خطا

میرے مولا نے کہا تیری غلط ہے التجاء

جسم ہے معذور اس کا ، روح کب معذور ہے

عارضی شے ہے بدن معذور یا بھر پور ہے

…………………………………

کی دعا میں نے کہ مولا ، صبر کر مجھ کو عطا

چاٹتی جاتی ہے مجھ کو جلد بازی کی بلا

میرے مولا نے کہا تیری غلط ہے التجاء

صبر کیا ہے مشکلوں کو جھیلنے کا نام ہے

خود کماتے ہیں اسے کیا یہ کوئی انعام ہے؟

……………………………………

کی دعا میں نے خوشی کا لطف کچھ مجھ کو چکھا

شادمانی سے ہے یہ غمگین دل نا آشنا

میرے مولا نے کہا تیری غلط ہے التجاء

میں نے توتجھ پر انڈیلیں رحمتیں اور برکتیں

ڈھونڈنی ہیں تجھ کو خود ان میں خوشی کی ساعتیں

……………………………………

کی دعا میں نے خدا سے غم سے کر مجھ کو رہا

ایک مدت سے ہوں میں رنج و الم میں مبتلا

میرے مولا نے کہا تیری غلط ہے التجاء

گھیر کر غم ہی مرے نزدیک لاتے ہیں تجھے

یہ تو میرے قُرب کی لذت چکھاتے ہیں تجھے

…………………………………

کی دعا میں نے کہ میری روح کو اُجلا بنا

میل اس کی دُور ہو شفافیت کر دے عطا

میرے مولا نے کہا تیری غلط ہے التجاء

کام یہ اچھا ہے لیکن آپ کرنا ہے تجھے

ہاں تری کوشش میں بے شک رنگ بھرنا ہے مجھے

……………………………………

کی دعا میں نے عطا ہو زندگانی کا مزہ

ایک مدت سے طلب لذت کی ہے بے انتہا

میرے مولا نے کہا تیری غلط ہے التجاء

میں نے دی ہے زندگی کی قیمتی دولت تجھے

ڈھونڈنی اس سے کوشش کر کے اب لذت تجھے

…………………………………

کی دعا میں نے مجھے بندوں سے الفت کر عطا

جتنی اُلفت ہے تجھے مجھ سے مرے پیارے خدا

ہنس پڑا عرشیؔ خدا سن کر مری یہ التجاء

اور میرے کان میں چپکے سے پھر کہنے لگا

تُو نے پہلی بار اک عقل و خرد کی بات کی

تجھ کو ورنہ فکر بس رہتی ہے اپنی ذات کی

………………………………

Rate: 0