خُدا  اور  صفیہ

 

ارشاد عرشیؔ ملک

 

 

ایک عورت نام صفیہ تھی بہت تنہا غریب

 ہر گھڑی رکھتی تھی پر اللہ کو دل کے قریب

 

سادہ دل معصوم صورت بھولی و شفاف تھی

چاہ تھی قربِ خدا کی پاک دل اور صاف تھی

 

بڑھتے بڑھتے قرب کی خواہش ہوئی اتنی شدید

ہر گھڑی صفیہ کا دل کہنے لگا ہل مِن مزید

 

اس کا یہ دیوانہ پن اللہ کو بھی بھا گیا

 اور اس دیوانگی پر پیار اس کو آگیا

 

ایک دن پھر خواب میں اللہ نے اس سے کہا

تجھ سے ملنے کو میں آئوں گا مرا کھانا پکا

 

وہ خوشی سے جھوم کر بازار کی جانب گئی

 خرچ کر ڈالی وہ سب پونجی جو اس کے پاس تھی

 

آرہا تھا اس کے گھر مہماں خدائے مہرباں

چاہتی تھی انتظام اللہ کے شایانِ شاں

 

پک گیا کھانا ،سجا جب میز پورے طور سی

دی کسی نے گھر کے دروازے پہ دستک زور سی

 

انتہائے شوق سے صفیہ نے جب کھولا کواڑ

 اِک گداگر تھا کھڑا کہ شکل تھی جس کی اُجاڑ

 

اس نے صفیہ سے کہا بھوکا ہوں کچھ کھانے کو دے

تیرے دل کی سب مرادیں رب ترا پوری کرے

 

 چونکہ صفیہ نیک تھی اس میں خدا خوفی بھی تھی

 وہ گدا گر کو نہ خالی ہاتھ واپس کر سکی

 

اس نے سب کھانا گدا گر کو دیا عرشیؔ کِھلا

وہ لگا دینے دعائیں پیٹ جب اس کا بھرا

 

دل گرفتہ ہو گئی صفیہ کہ اب وہ کیا کرے

 کچھ بھی نہ باقی بچا رب کو کھلانے کے لئے

 

 بالیاں اپنی اتاریں چل پڑی بازار کو

 اور ان پیسوں سے لائی مل سکا کھانے کو جو

 

اُس نے پھر کھانا بنایا شوق سے تھی منتظر

اک بھکارن دفعتاً پھر آگئی صفیہ کے گھر

 

اور بولی کچھ خدا کے واسطے مجھ کو کھلا

تین دن سے کچھ بھی کھانے کو نہیں مجھ کو ملا

 

حال اس کا دیکھ کر صفیہ کا دل گھبرا گیا

جو بھی کچھ کھانے کو تھا صفیہ نے اس کو دے دیا

 

مطمئن تھا دل مگر پھر بھی اداسی چھا گئی

بیٹھے بیٹھے دفعتاً صفیہ بہت گھبرا گئی

 

دل میں لے کر فکر یہ صفیہ گئی کرسی پہ سو

 اصل مہماں اب اگر آیا تو کیا کھائے گا وہ؟

 

خواب میں دیکھا  خدا کو مسکراتے اس گھڑی

دیکھ کر بے ساختہ صفیہ سسک کر رو پڑی

 

اور یہ  شکوہ کیا کہ آپ کیوں آئے نہیں

کر کے وعدہ کس لئے تشریف پھر لائے نہیں

 

مسکرا کر یوں دیا اللہ نے اس کو جواب

چٹپٹی تھی تیری بریانی مزے کے تھے کباب

 

اِک دفعہ کھانے کے بعد ایسا مجھے چسکا لگا

 میں بدل کر بھیس دوبارہ ترے گھر آگیا

Rate: 0