خُدایا ہم کو رکھ ثابت قدم ،ہم صبر کرتے ہیں

(دنیا بھر میں احمدیوں پر ہونے والے انسانیت سوز مظالم کے حوالے سے ایک تازہ نظم)

 

گِلا ہے نہ شکایاتِ ستم ہم صبر کرتے ہیں

وقارِ صبر کی ہم کو قسم ہم صبر کرتے ہیں

کوئی جب دل دُکھاتا ہے لبوں کو بھینچ لیتے ہیں

اگر چہ آنکھ ہو جاتی ہے نم ہم صبر کرتے ہیں

دعا دیتے ہیں اپنے دشمنوں کو گالیاں سن کر

ستم ہوتا ہے تمہیدِ کرم ہم صبر کرتے ہیں

ہمیں نفرت کی زنجیروں میں تم نے باندھ رکھا ہے

ہمارے سر پہ ہے تلوار خم ہم صبر کرتے ہیں

مناظر چِک یو سِک کے دیکھ کر دل سے دعا نکلی

خدایا ہم کو رکھ ثابت قدم ہم صبر کرتے ہیں

نگاہوں میں خدا کی محترم ہونے کی خواہش ہے

زمانے میں ہیں گو نامحترم ہم صبر کرتے ہیں

ہمارا صبر پڑ جائے نہ ظالم پر ہمیں ڈر ہے

سو دیتے ہیں دعائیں دم بدم ہم صبر کرتے ہیں

فضیلت صبر کی جب سے ہمیں مہدؑی نے سمجھائی

بہت بھایا ہے ہم کو ضبطِ غم ہم صبر کرتے ہیں

زمانے نے گواہی دی شکیب و صبر کی اپنی

گواہی دیں گے اب لوح و قلم ہم صبر کرتے ہیں

سوا سو سال میں ہم پر جو گذری دشتِ غربت میں

ہے ورقِ جاں پہ اشکوں سے رقم ہم صبر کرتے ہیں

مورّخ جب ہمارے عہد کی تاریخ لکھے گا

تو خوں اُگلے گا کاغذ پر قلم ہم صبر کرتے ہیں

ہم اصحابِ کہف کے پاس جو سکے پرانے ہیں

نہیں مقبول وہ دام و درم ہم صبر کرتے ہیں

صلے میں صبر کے ہم نے خدا کا قُرب پایا ہے

نہیں اب دل میں کوئی خوف و غم ہم صبر کرتے ہیں

بشر اس وصف کے ہونے سے افضل ہے فرشتوں سے

ہے قائم اس سے انساں کا بھرم ہم صبر کرتے ہیں

رضا محبوب کی اپنی رضا جب سے بنا لی ہے

اسی خواہش میں ہر خواہش ہے ضم ہم صبر کرتے ہیں

بہت جلتا ہے جب سینہ ، بہت جب دل سُلگتا ہے

تو کر دیتے ہیں سر سجدے میں خم ہم صبر کرتے ہیں

ملا ہے ہم کو درویشی میں ایسا لُطفِ بے پایاں

نہیں دل میں تمنائے حشم ہم صبر کرتے ہیں

بہت محبوب ہے لوگو ہمیں جام ِسفال اپنا

نہیں دیں گے بعوضِ جامِ جم ہم صبر کرتے ہیں

قناعت ہو سخاوت ہو کہ ضبط و بُردباری ہو

ہیں حرفِ صبر میں سارے بہم ہم صبر کرتے ہیں

جہاں کے شہر یاروں تک ، زمیں کے سب کناروں تک

کبھی لہرائے گا اپنا عَلم ہم صبر کرتے ہیں

ہر عُسر و یُسر میں صبر و رضا مومن کا سرمایہ

سہل کرتا ہے یہ سارے الم ہم صبر کرتے ہیں

ہماری سب تمنائیں عزائم خاک ہیں عرشیؔ

خدا کا حُکم ہے بے شک اہم ، ہم صبر کرتے ہیں

…………………………………

Rate: 0