خلافت دائمی ہو گی

 

ارشاد عرشی ملک

 

خلافت کی محبت میں دلوں کو یوں فنا رکھنا

کوئی مسلک اگر رکھنا تو تسلیم و رضا رکھنا

 

سمعنا اور اطعنا میں چھپی روحِ خلافت ہے

یہ نکتہ بھول مت جانا اسے دِل میں بسا رکھنا

 

بہت سے ابتلا آئیں گے ہمت ہار مت دینا

سدا با حوصلہ رہنا سدا خوئے وفا رکھنا

 

خدا کے فضل و احساں سے بہاریں ان گنت آئیں

بہاریں ان گنت آئیں گی دروازہ کھلا رکھنا

 

گیارہ سال پورے ہو گئے ہیں دورِ خامس کے

یونہی گزریں ہزاروں سال یہ لب پر دُعا رکھنا

 

یہ لعل بے بہا ہے ، گوہر نایاب ہے پیارو

خلافت کی حفاظت اپنی جانوں سے سوا رکھنا

 

اگر منصب خلافت کا کبھی قربانیاں مانگے

تو جان و مال، وقت اولاد، ہر شئے کو فدا رکھنا

 

یہ راہِ عشق ہے اہل یقیں کی رہگذر ہے یہ

نہ دل میں وسوسہ رکھنا نہ لب پر چوں چرا رکھنا

 

طبیعیت میں تدبر ہو، تحمل، بردباری ہو

تم اپنے نفس کے جوشوں کو غصے کو دبا رکھنا

 

شہادت دو عمل سے جب بھی اقرارِ وفا باندھو

فقط لفظی شہادت پر نہ ہرگز اکتفا رکھنا

 

جو اقرار بیعت باندھا ہے یوں اس کو نبھانا ہے

جلا کر کشتیاں ساری خدا کا آسرا رکھنا

 

خدا کے در پہ رونا، گڑگڑانا عاجزی کرنا

کسی انسان کے آگے نہ دست التجا رکھنا

 

خدا مالک، خدا رازق وہی ہے کارساز اپنا

نہ اس کے ماسوا اپنا کوئی حاجت روا رکھنا

 

تم اپنی خواہش و مرضی دبالینا، مٹا دینا

رضائے قادرِ مطلق میں ہی اپنی رضا رکھنا

 

جو مخلوقِ خدا سے معاملہ کرنا پڑے تم کو

بھلا کر اپنے سب سود و زیاں خوفِ خدا رکھنا

 

تمہاری راہ میں حائل نہ ہوں کمزوریاں اپنی

سو استغفار سے دن رات ہونٹوں کو سجا رکھنا

 

یہ تیر بے خطا ہے نسخہ اکسیر ہے پیارو

خدا کے در پہ پھیلائے ہوئے دست دعا رکھنا

 

اگر تقویٰ پہ عرشیؔ مرد و زن قائم رہے دائم

خلافت دائمی ہوگی سو خود کو پارسا رکھنا

Rate: 0