ہر سُو تھا انجانا ڈر خاموش رہے

شہر کے سارے دانش ور  خاموش رہے

 

اپنی اپنی غرض و انا کے قیدی تھے

اس کارن سب اہلِ نظر  خاموش رہے

 

سچ کہنا تو زہر پیالہ پینا تھا

سارے کر کے اگر مگر  خاموش رہے

 

قوم پھنسی تھی ظلم و جہل کی دلدل میں

دڑ وٹ کر لیکن رہبر خاموش رہے

 

ظلم کے ساتھی گلیوں گلیوں دھاڑے ہیں

عدل کے سب ہمدرد مگر  خاموش رہے

 

اپنے حق میں کوئی نہ آواز اُٹھی

ہمسائے اور بام و در  خاموش رہے

 

حق کی خاطر کچھ نہ بولے گونگے لوگ

بہرے بھی کہلائے پر خاموش رہے

 

اپنے گھر کا صحن اٹا تھا  لاشوں سے

پر قانون کے بازی گر  خاموش رہے

 

ہم نے اپنی آہ  دبا لی سینوں میں

جب حاکم اور چارہ گر  خاموش رہے

 

جھوٹ اور سچ کا فرق بتائے کون یہاں

موند کے دیدے ، دیدہ ور خاموش رہے

 

دیکھ کے لچھن دین کے ٹھیکیداروں کے

بے دیں ، دروازے ڈھو کر خاموش رہے

 

دنیا میں سقراط بھی تھے منصور بھی تھے

سچ سے سب کو آج حذر خاموش رہے

 

کون ہے ابراہیم جو کودے شعلوں میں

اپنے عہد میں سب آزر خاموش رہے

 

لاکھوں اپنے دیس میں ہی پردیسی ہیں

باقی ہو کر ملک بدر  خاموش رہے

 

خود تاریخ لکھے گا وقت مورّخ ہے

کیا غم ہے جو زید و بکر  خاموش رہے

 

قدموں کا ہر نقش گواہی دیتا ہے

گرچہ سُونی راہ گذر  خاموش رہے

 

یاں مرگِ انبوہ بھی کھیل تماشا ہے

حُکم ہوا ہے نوحہ گر  خاموش رہے

 

ہے آوازِ خلق خُدا کا نقارہ

ناداں اس کو بھی سُن کر خاموش رہے

 

رب کی لاٹھی بھاری ہے پر بے آواز

پل میں توڑے لاکھوں سر خاموش رہے

 

اپنا رب رحمان ہے کیسے ممکن ہی؟

دیکھ کے یہ اندھیر نگر خاموش رہے

 

چُپ رہنا ہے لیکن ڈٹ کر رہنا ہے

جو بھی ہے اس وقت جدھر  خاموش رہے

 

ایک گواہی دینی تھی سو دے بیٹھے

گہنائے پر شمس و قمر  خاموش رہے

 

پانی ،مٹی آگ، ہوا، سب بولے ہیں

مصلحتاً گر جن و بشر خاموش رہے

 

بے مہری کی برف جمی تھی جذبوں پر

کیا کیا نہ دیکھے منظر خاموش رہے

 

چوک میں ماں نے چاروں بچے بیچ دئیے

پڑھ کر قاری یہ بھی خبر خاموش رہے

 

لفظوں میں نہ دل کا درد سمو پائے

ہم سے کتنے چشمِ تر خاموش رہے

 

کون لکھے گا نوحہ گُھپ اندھیرے کا

گر اس دور کے نغمہ گر  خاموش رہے

 

ہم نے جبر کے موسم میں بھی شعر کہے

عرشیؔ جب سارے شاعر  خاموش رہے

 

Rate: 0