جھوٹی ماں

         ماخوذ

ارشاد عرشی ملک

Arshimalik50@hotmail.com

ایک بچّہ ،ماں تھی جس کی مر چکی

باپ لایا اس کی خاطر ،ماں نئی

تا  نہ  ہو،محسوس  بچّے کو کمی

لوٹ آئے اس کے ہونٹوں پرہنسی

 

ایک دن بچّے سے پوچھا باپ نے

ہاں۔۔بتا کیسی ہے تیری ماں نئی؟

تیری پہلی ماں سے اچھی یا بُری؟

 

سوچ میں پہلے تو بچّہ پڑ گیا

اور پھر یوں باپ سے کہنے لگا

پہلی ماں جھوٹی تھی ،پر سچی ہے یہ

میرے بابا ،بات کی پکی ہے یہ

 

میری پہلی ماں تو تھی جھوٹی بڑی

جب میں کرتا تھا شرارت ،اُس گھڑی

 

مجھ سے ہو جاتی خفا

ڈانٹ کر کہتی سدا

آج میں کھانا نہیں دوں گی تجھے

رات بھر بھوکا ہی رکھوں گی تجھے

 

بھول جاتی تھی پھر اپنا ہی کہا

ڈھونڈتی پھرتی تھی مجھ کو جا بجا

روُ ٹھتا تھا میں تو، لیتی تھی منا

ہاتھ منہ دھلوا کے گودی میں بٹھا

چوم کر دیتی تھی وہ کھانا کھلا

 

 

اب اگر کرتا ہوں میں کوئی خطا

مجھ سے ہوتی ہے نئی ماں بھی خفا

 

ڈانٹ کر کہتی ہے اُس ماں کی طرح

آج میں کھانا نہیں دوں گی تجھے

رات بھر بھوکا ہی رکھو گی تجھے

 

یاد رکھتی ہے یہ پھر اپنا کہا

بات سے عرشی نہیں پھرتی ذرا

 

اس کی سچائی کے باعث،مجھ پہ کھانا”بین ” ہے

پیٹ میرا بھوک سے بابا،بہت بے چین ہے

 

Rate: 0