جب خدا نے مجھ سے بات کی

 

(مرکزی خیال ماخوذ)

 

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

 

میں جواں لڑکا تھا میری عمر تھی پچیس سال

لا اُبالی سی طبیعت ملحدانہ سے خیال

ایک دن میں ساتھ کچھ یاروں کے مسجد کو گیا

سُن کے لیکچر عالم ِ دیں کا بہت حیراں ہوا

عالمِ دیں نے کہا رکھتے ہیں ہم زندہ خدا

آج بھی جو اپنے بندوں سے ہے بے شک بولتا

وہ دُعا مضطر کی سن کر اس کا دیتا ہے جواب

جس سے چاہے گفتگو کرتا ہے وہ زیرِ حجاب

ڈھونڈتا ہے جو خدا کو ، اُس کو پاتا ہے ضرور

جو نہ پائے تو سمجھ لے اپنی کوشش میں قصور

اپنے بندوں کو بُلاتا ہے وہ رحمان و غفور

پر نہیں پہچانتے بندے ہیں اکثر بے شعور

…………………………………

بعد اس لیکچر کے ہم سب مِل کے کھانے پر گئے

دیر تک ہوتے رہے زندہ خدا کے تذکرے

رات کے گیارہ بجے تھے جب میں محفل سے اُٹھا

کار میں بیٹھا اور اپنے گھر کی جانب چل دیا

دل ہی دل میں کر رہا تھا میں دُعا میرے خدا

تُو اگر موجود ہے تو مجھ کو بھی جلوہ کرا

میں بھی بندہ ہوں ترا ، مجھ سے بھی کوئی بات کر

شوق سے مانوں گا میں ، تُو کچھ تو احکامات کر

تجھ سے ناواقف ہوں اِس کوچے میں بھی ہوں اجنبی

اُنسیت کی تجھ سے پر دل کو لگی ہے بھوک سی

لوگ کہتے ہیں کہ کر لیتا ہے تُو بندوں سے بات

اتفاق ایسا کوئی لیکن ہوا نہ میرے ساتھ

کر رہا تھا میں ڈرائیونگ اور جاری تھی دعا

یک بیک میرے ہی دل نے دی مجھے عرشیؔ صدا

…………………………………

’’روک لے ابرار گاڑی دودھ کا پیکٹ خرید‘‘

دل کی اس آواز پر مجھ کو ہوئی حیرت شدید

یہ عجب خواہش تھی جو اُس پل مرے دل میں اٹھی

کیونکہ مجھ کو دودھ کی بچپن سے عادت ہی نہ تھی

دفعتاً اپنی دُعا کا تب مجھے آیا خیال

غالباً مجھ سے مخاطب تھا خدائے ذوالجلال

…………………………………

’’اے خدا کیا تو ہے یہ؟ ‘‘ میں نے اچنبے سے کہا

دوسری جانب سے لیکن کوئی نہ آئی صدا

وہم اپنا جان کر روکا نہ میں نے کار کو

اور جھٹکا ذہن سے اس خواہشِ بے کار کو

پھر کسی نے دی صدا ’’ابرار گاڑی روک لے”

اور جلدی سے اتر کر ایک پیکٹ دودھ لے

میں نے سوچا کیوں نہ لے لوں ایک پیکٹ دودھ کا

گر خدا کا حُکم ہے تو ہے بہت آسان سا

میں نے اِک پیکٹ خریدا اور گھر کو چل دیا

راستے میں تھا کہ پھر دل سے مرے اٹھی صدا

’’چوک سے دائیں طرف کو موڑ لے گاڑی ذرا‘‘

میں نے سوچا اس علاقے سے نہیں میں آشنا

بس یہی کچھ سوچ کر تیزی سے آگے بڑھ گیا

موڑ لے گاڑی کو واپس دل نے لیکن پھر کہا

…………………………………

’’اے خدا کیا تُو ہے یہ؟‘‘ میں نے اچنبے سے کہا

دوسری جانب سے لیکن کوئی نہ آئی صدا

الغرض واپس مُڑا اور دائیں جانب کو گیا

گھپ اندھیرا تھا ،گلی میں جاگتا کوئی نہ تھا

میں نے مولا سے کہا لے اس گلی میں مڑ گیا

مجھ سے تو کیا چاہتا ہے کچھ نہیں لیکن پتہ

دل میں پھر خواہش اُٹھی ابرار گاڑی روک لے

آخری کونے پہ جو گھر ہے وہاں یہ دودھ دے

…………………………………

دل کی یہ آواز سُن کر میں پریشاں ہو گیا

ہر طرف تھی خامشی اور وقت آدھی رات کا

اب کے میرے نفسِ سرکش نے شروع کر دی اَڑی

اے خدا اس حکم کی تعمیل ہے مشکل بڑی

میں اگر گھنٹی بجائوں گا بگڑ جائیں گے وہ

طیش میں آکر یکایک مجھ سے لڑ جائیں گے وہ

پھر کہا دل نے کہ “جا ابرار اُن کو دودھ دے

تجھ کو تو خواہش تھی مولا کی اطاعت تو کرے”

…………………………………

بادلِ نخواستہ نکلا میں اپنی کار سے

اور زیرِ لب کہا اُس خالقِ سنسار سے

حُکم ہے تیرا اگر تو لازماً جاؤں گا میں

گو یقیں ہے مجھ کو مولا ، آج پِٹ جاؤں گا میں

اُن کو سوتے سے جگا کر دودھ دینا ہے غلط

رات کے بارہ بجے پنگا یہ لینا ہے غلط

گر تری خواہش یہی ہے ، آج ہو ذلت مری

نصف شب کو اس محلے میں بنے دُرگت مری

ٹھیک ہے ، سہہ لوں گا تیری اطاعت کے لئے

تیری قربت کے لئے ، تیری رفاقت کے لئے

تا میں دیکھوں واقعی تو قائم و موجود ہے

کھوج میں ہوں میں تری ، تُو ہی مرا مقصود ہے

میں بجا دیتا ہوں گھنٹی حکم کی تعمیل میں

تیری خواہش ہے تو میں راضی ہوں اِس تذلیل میں

 

الغرض گھنٹی بجائی میں نے اور دستک بھی دی

زور دار آواز پھر میں نے سنی اِک مرد کی

ڈانٹ کر اُس نے کہا کہ کون ہے ؟کیا چاہیے؟

کون دستک دے رہا ہے رات کے بارہ بجے؟

اُس نے پھر کھولا کواڑ اور جلد باہر آگیا

اُس چہرے پر بہت حیرت بھی تھی ، غصہ بھی تھا

گڑبڑا کر میں نے پیکٹ اُس کے ہاتھوں میں دیا

اور گھبراہٹ میں ، میں اِک لفظ بھی نہ کہہ سکا

دیکھ کر پیکٹ خوشی سے اُس کا چہرہ کِھل گیا

جس طرح اُس کو اچانک اِک خزانہ مل گیا

کانپتی آواز سے دیتا تھا بیوی کو صدا

پھر کبھی میری ، کبھی پیکٹ کی جانب دیکھتا

یک بیک اندر کے اِک کمرے کا دروازہ کھلا

میرے کانوں نے سنی بچے کے رونے کی صدا

جانے کتنی دیر سے معصوم تھا وہ رو رہا

بھوک سے رو رو کے تھا اس کا گلا بیٹھا ہوا

اُس کا والد تھام کر پیکٹ کو پھر رونے لگا

چوم کر ہاتھوں کو میرے جوش سے کہنے لگا

آج گھر آتے ہوئے تھی جیب میری کٹ گئی

اور دن بھر کی کمائی ایک پل میں لُٹ گئی

دودھ کے پیسے نہیں تھے تھی پریشانی بہت

رات اب کیسے کٹے گی تھی یہ حیرانی بہت

کب سے تھا معصوم بچہ بھوک سے چِلّا رہا

بے بسی سے تھا کلیجہ منہ کو میرے آرہا

ہم دعائیں کر رہے تھے اے خدا پیارے خدا

تو ہی پالن ہار ہے ،تجھ پر ہے اپنا آسرا

بھیج دے کوئی فرشتہ دودھ کا پیکٹ لئے

کچھ بھی ناممکن نہیں اللہ تیرے واسطے

…………………………………

دودھ بچے کو دیا اور اس کی بیوی نے کہا

اجنبی تم ہی فرشتے ہو بلا شک و شبہ

محوِ حیرت رہ گیا میں سُن کے اُس کی بات کو

جانتا تھا خود میں اپنی ہستی و اوقات کو

جیب سے بٹوہ نکالا میں نے کالی رات میں

جو بھی تھا اس میں تھمایا آدمی کے ہاتھ میں

خامشی سے جب میں اپنی کار کی جانب مڑا

آنسوئوں کا میری آنکھوں سے سمندر بہہ پڑا

ہو گیا مجھ کو یقیں قائم ہے ، دائم ہے خدا

اپنے بے کس ، مضطرب بندوں کی سنتا ہے دعا

مجھ سے ناقص سے بھی اپنی طرز سے ہے بولتا

اُس کی رمزیں ہیں الگ اور اس کی حکمت ہے جدا

قادرِ مطلق ہے ، کر سکتا ہے جو ہے چاہتا

میں تو کیا ، میرے ارادوں کا بھی خالق ہے خدا

…………………………………

 

 

Rate: 0