بی  ایم  ڈبلیو پر ڈینٹ

 

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

 

چِلچلاتی دھوپ تھی اور گرمیوں کی دوپہر

میں بہت جلدی میں تھا درپیش تھا لمبا سفر

 

ہو رہا تھا لیٹ میں ، ٹائم پہ تھی میری نظر

میں کلب کو جا رہا تھا ایک بزنس لنچ پر

 

میں نے اس ہفتے ہی لی تھی کار اِک بالکل نئی

میری بی ایم ڈبلیو بے شک تھی بے حد قیمتی

 

گرمیاں تو تھیں مگر وہ دن تھا بے حد گرم تر

چیل بھی ایسے میں اُڑ جاتی ہے انڈے چھوڑ کر

 

لو فلائنگ کر رہا تھا میں بہت تیزی میں تھا

دُور تک خالی سڑک کا ر میں لے رہا تھا  مزہ

 

کار میں موسم خنک تھا اور موسیقی حسیں

بھاگتی جاتی تھی پیچھے کی طرف ساری زمیں

 

مجھ کو اِک لڑکا سڑک پر دفعتاً آیا نظر

جو کہ رُکنے کا اشارہ کر رہا تھا چیخ کر

 

لفٹ دینے کی مجھے لوگوں کو عادت ہی نہ تھی

اجنبی کے واسطے رُکنے کی فُرصت بھی نہ تھی

 

تھی مری رفتار اِک سو بیس سے اوپر مگر

اُس نے گاڑی پر مری اک اینٹ ماری کھینچ کر

 

ایک دو لمحے تلک میں کچھ نہ سمجھا کیا ہوا

اور جب سمجھا تو غُصے میں یکایک بھر گیا

 

دفعتاً اِک آگ میرے تن بدن میں پُھک گئی

ایک جھٹکے سے مری گاڑی سڑک پر رُک گئی

 

یوں میں نکلا کار سے گویا بگولا آگ کا

منہ سے نکلا گالیاں بن کر سمندر جھاگ کا

 

تھا یقیں مجھ کو کہ لڑکا بھاگ جائے گا مگر

وہ مری جانب بڑھا ہاتھوں کو اپنے جوڑ کر

 

میں نے جب غُصے سے پوچھا اس حماقت کا سبب

اس قدر سہما لگا بے ہوش ہو جائے گا اب

 

رو کے بولا معاف کر دیجئے مری جرات کو سر

کوئی بھی کوشش مری ہوتی نہیں تھی کار گر

 

 

میرا جڑواں بھائی جو بیمار اور معذور ہے

ہاتھ پاؤں جس کے ٹیڑھے ہیں بہت مجبور ہے

 

ڈاکٹر کے پاس میں اس کو تھا لے کر جا رہا

وہیل چئیر کو لگا جھٹکا وہ نیچے گِرگیا

 

وہ اُدھر ہے روڈ کی سائیڈ پہ اوندھے منہ پڑا

اور اس کی ناک سے ہے خوں مسلسل رِس رہا

 

کوئی بھی بندہ بشر اس جا نہیں آتا نظر

میں مدد کے واسطے کس کو پکاروں چیخ کر

 

اپنے زخمی بھائی کو تنہا اُٹھا سکتا نہیں

اس کو واپس وہیل چئیر پر بٹھا سکتا نہیں

 

 

ہر گذرتی کار سے رُکنے کی کی ہے التجاء

اس سڑک پر ہوں گذشتہ  ایک گھنٹے سے کھڑا

 

بند ہیں مجھ پر سبھی رحم و کرم کے راستے

کوئی بھی رکتا نہیں میری مدد کے واسطے

 

بے بسی نے بھائی کی آخر کیا مجھ کو نڈر

میں نے سوچا کیوں نہ اب روکوں میں پتھر مار کر

 

جب سُنی یہ بات مجھ کو جُھرجھری سی آگئی

سر سے پا تک کپکپی میرے بدن پر چھا گئی

 

بات اس کی سُن کے میں معذور کی جانب بڑھا

اس کی حالت دیکھ کر خوفِ خدا سے کانپ اُٹھا

 

اس کے بھائی کی مدد سے جب اسے سیدھا کیا

اس کا چہرہ اور بدن تھا خاک اور خوں سے اٹا

 

وہیل چئیر پر دھرا بے کس اپاہج بھائی کو

دل بھر آیا دیکھ کر اس بے کسی تنہائی کو

 

ان کا کوئی بھی نہیں تھا ایک دوجے کے سوا

اس بھری دنیا میں وہ مظلوم تھے بے آسرا

 

ڈاکٹر کے پاس اس کے بھائی کو لے کر گیا

مجھ سے جو کچھ بن پڑا اس کے لئے میں نے کیا

 

سوچ دل میں آئی مجھ غافل کے عرشیؔ اُس گھڑی

خُود میں ہم سب مست ہیں ہر اِک کو ہے اپنی پڑی

 

نعمتیں ملتی ہیں تو مغرور ہو جاتے ہیں ہم

اپنے بے کس بھائیوں سے دور ہو جاتے ہیں ہم

 

ہے پہنچنا کس جگہ جلدی میں کیوں ہیں اس قدر

زندگانی کا سفر تو دائرے کا ہے سفر

 

چاہیے بندے کو کچھ رفتار اپنی کم کرے

قبل اس کے روکنے کے واسطے پتھر پڑے

 

مجھ کو سُوجھے یہ سبھی نکتے سُلگتی دھوپ میں

دو  فرشتے جب ملے دو بھائیوں کے رُوپ میں

 

میری بی ایم ڈبلیو کا ڈینٹ ہے اک یادگار

جس نے رازِ  زندگی مجھ پر کیا تھا آشکار

………………………………

 

 

Rate: 0