ایک ڈالر بارہ سینٹ کا معجزہ

 

(مرکزی خیال،ماخوذ)

 

ارشاد عرشیؔ ملک اسلام آباد

arshimalik50@hotmail.com

 

دوپہر کا وقت تھا گرمی میں شدت تھی بڑی

اور گہری سوچ میں معصوم روبی تھی پڑی

 

اُس نے بستے سے نکالی ایک تھیلی پنک سی

چڑ مُڑا اِک نوٹ اور کچھ ریزگاری اس میں تھی

 

فرش پرپھیلا کے سکّوں کو کیا اُس نے شمار

ننھی ننھی انگلیوں سے کی یہ گنتی بار بار

 

ایک ڈالر اور بارہ سینٹ تھی یہ کُل رقم

شاپ کی جانب اُٹھے معصوم روبی کے قدم

 

تھی بہت یخ اور مہنگی یہ دوائوں کی دُکاں

جیب میں پیسے بہت ہیں تھا یہ روبی کو گماں

 

اُس گھڑی رَش تھا بہت مصروف تھے افراد سب

واسطے روبی کے عرشیؔ صبر کچھ مشکل تھا اب

 

اس نے پھر اسٹور کے مالک کو متوجہ کیا

جو ضروری بات تھا اِک اجنبی سے کر رہا

 

چڑ کے مالک نے کہا روبی سے ہاں کیا چاہیے؟

ٹافیاں گر چاہیے تو دوسری منزل سے لے

 

روبی :۔۔

 

مجھ کو اپنے بھائی کے بارے میں کچھ کرنی ہے بات

وہ بہت بیمار ہے تکلیف سے کٹتی ہے رات

 

سٹور کا مالک :۔۔(بات کاٹ کر)

 

جس دوائی کی تمہیں حاجت ہے اُس کا نام لو

اور دوا لینے سے پہلے کاونٹر پر دام دو

 

روبی :۔۔

 

معجزہ لینے کو انکل جی میں گھر سے آئی ہوں

اور اپنی کُل رقم ہمراہ اپنے لائی ہوں

 

سٹور کا مالک :۔۔(مسکرا کر)

 

معجزہ؟ ہم معجزے رکھتے نہیں دُکان میں

 

معجزے بیچیں تو شائد ہم رہیں نقصان میں

روبی :۔۔

 

تین سالہ بھائی میرا جس کا نام عماّر ہے

وہ گذشتہ چھ مہینے سے بہت بیمار ہے

 

اُس کے سر میں بڑھ رہی ہے کوئی شے تیزی کے ساتھ

جب وہ روتا ہے تو ماں روتی ہے اُس کے ساتھ ساتھ

 

ابو کہتے ہیں بچا سکتا ہے اُس کو معجزہ

مہربانی کر کے دیجئے جلد مجھ کو معجزہ

 

دیکھئے شائد کہیں رکھا ہو اچھا معجزہ

بولئیے کتنے میں مل جائے گا چھوٹا معجزہ؟

 

سٹور کا مالک :۔۔

 

کس نے تم سے کہہ دیا ہم بیچتے ہیں معجزہ

گر دوا لینی ہے لو یونہی نہ کھائو سر مرا

 

……………………………………

 

اجنبی جو شوق سے یہ گفتگو تھا سُن رہا

ننھی روبی کی طرف چاہت سے متوجہ ہوا

 

اجنبی :۔۔

 

ننھی بچی پھر کہو تم کہہ رہی تھی بات کیا؟

بھائی کو تمہارے ہے درکار کیسا معجزہ؟

 

روبی :۔۔

 

مجھ کو اِس بارے میں انکل جی نہیں کچھ بھی پتہ

بھائی میرا ٹھیک ہو جائے یہ کرتی ہوں دُعا

 

ماں یہ کہتی ہے کہ اُس کو آپریشن چاہیے

اور یہ ممکن نہیں ہے میرے ابو کے لئے

 

ابو کہتے ہیں بچا سکتا ہے گر تو معجزہ

زندگی اس کو دلا سکتا ہے گر تو معجزہ

 

معجزہ میں مفت لینے کے لئے کب آئی ہوں

میں تو اپنی کل رقم ہمراہ اپنے لائی ہوں

 

اجنبی :۔۔

 

کتنے پیسے ہیں تمہاری جیب میں بتلاؤ تو

معجزہ جن سے خریدو گی ذرا دکھلاؤ تو

 

روبی :۔۔(خوش ہو کر)

 

ایک ڈالر اور بارہ سینٹ ہیں کر لیں شمار

میں نے تو اچھی طرح اِن کو گِنا ہے تین بار

 

اجنبی :۔۔ (مسکرا کر)

 

ایک ڈالر اور بارہ سینٹ؟ ارے کافی ہیں یہ

بس اسی قیمت میں مل جاتے ہیں چھوٹے معجزے

 

یہ رقم دے دو ، اور اپنے گھر مجھے لے جائو تُم

اپنے ابو اور امی سے مجھے ملواؤ تُم

 

چاہتا ہوں دیکھنا بچے کو جو بیمار ہے

تا یہ جانوں معجزہ کیسا اُسے درکار ہے؟

 

معجزہ چھوٹا سا میرے پاس اِک ہے تو سہی

گر دُعا شامل ہو شائد کام آجائے وہی

 

اجنبی کو دے کے فوراً اپنی کُل سوغات کو

کَس کے پھر روبی نے پکڑا اجنبی کے ہاتھ کو

 

…………………………………

 

سرجری کا اِک بڑا ماہر تھا مردِ اجنبی

اور پھر میدان بھی اُس کا تھا نیورو سرجری

 

آپریشن مفت میں پھر چھوٹے بھائی کا ہوا

اور ہنستا کھیلتا عماّر گھر کو آگیا

 

ایک دن خوش خوش بہت بیٹھی تھی ساری فیملی

اور ماں روبی کی اُس کے باپ سے تھی کہہ رہی

 

میں تو کہتی ہوں کہ ہے یہ آپریشن معجزہ

خرچ اس پر ایک دھیلا بھی نہیں کرنا پڑا

 

مسکرائی سن کے روبی اپنی ماں کی بات کو

معجزے کی اصل قیمت جانتی تھی صرف وہ

 

ایک ڈالر اور بارہ سینٹ کا تھا معجزہ

اور یہ قیمت تو دی تھی آپ روبی نے چُکا

 

…………………………………

 

 

Rate: 0