اکیسویں صدی کا المیہ

 

ارشاد عرشیؔ ملک

 

 

جی رہے جس میں ہم یہ اِک انوکھا دور ہے

نفسی نفسی کا گلی کوچوں میں بے حد شور ہے

 

جلد بازی ہر طرف صبر و سکوں ناپید ہے

نفس کے زندان میں ، آزاد انساں قید ہے

 

پُر تکلف ہیں مکاں ، گھر ہیں مگر ٹوٹے ہوئے

شوہر و بیوی ہوں یا بھائی بہن روٹھے ہوئے

 

دُور دیسوں میں بسے غیروں سے گہرے رابطے

اپنے ہی ماں باپ سے لیکن ہیں کتنے فاصلے

 

امن کیا دنیا میں ہو ، دل میں نہیں امن و سکوں

ڈھونڈتا ہے دھمکیوں میں امن یہ دورِ جنوں

 

جگ کی آلودہ فضا انسان کا ہے دردِ سر

اپنی زہر آلود سوچوں کی نہیں لیکن خبر

 

زندگی ہے مختصر لیکن قطاریں ہیں طویل

ہیں دوائیں تو بہت پر حضرتِ انسان علیل

 

ظاہری اور عارضی اخلاق اور کردار ہے

اِس کو برتو اور پھینکو بعد میں بے کار ہے

 

راستی باقی نہیں  ، ہے جھوٹ کی گڈی چڑھی

عجز و نرمی مٹ گئی اور رہ گئی باقی ’’ تڑی”

 

ایک سی احمق کی چخ چخ اور دانا کی دلیل

آج ہم رُتبہ ہوئے افسوس نمرود و خلیل

 

بلڈنگیں اونچی ہیں لیکن ظرف چھوٹے ہو گئے

صحتیں باقی نہیں پر لوگ موٹے ہو گئے

 

ذائقوں کا دور ہے ، کھانوں میں چسکے بڑھ گئے

نرخ انساں کا گِرا اشیاء کے بھاو چڑھ گئے

 

فُوڈ تو ہیں فاسٹ لیکن ہاضمے کمزور ہیں

ان گنت دلچسپیاں ہیں لوگ پھر بھی بور ہیں

 

اِن دنوں مہنگی ہے روٹی اور سستی کال ہے

اس لئے گھر گھر میں بٹتی جوتیوں میں دال ہے

 

بڑھ گئے ہیں بِل مگر ، ہے گیس و بجلی میں کمی

اس لئے بڑھتی چلی جاتی ہے ہرپل برہمی

 

آگئے گاؤں تلک ڈسپوزایبل ڈائیپر

پھر بھی مائیں چڑچڑی ہیں اور بچے ہائیپر

 

لڑکیوں میں ناز نخرے ہیں لبھانے کے لئے

حوصلے لیکن نہیں شادی نبھانے کے لئے

 

کیا ضرورت ، کیا ہے آسائش ، نہیں کچھ بھی پتہ

شکر کا کلمہ نہیں ہر وقت ہونٹوں پر گِلہ

 

علم تو ہے واجبی سا ڈگریاں بے شک بہت

فہم و دانش کم ہے ، پر بے کار کی بک بک بہت

 

گفتگو تو بڑھ گئی ابلاغ لیکن کم ہوا

بولنے کا جو دھنی ہے آج وہ عالم ہوا

 

فاصلے بڑھائے رنگ و نسل نے تہذیب نے

خوب لڑوایا بشر کو اس نئی ترکیب نے

 

عالمِ بالا کے کروّں پر ہے انساں کی نظر

اپنے رشتہ دار و ہمسایوں سے لیکن بے خبر

 

آج مقداریں بڑھیں اور ہو گئے معیار کم

صاحبِ گفتار ڈھیروں ، صاحبِ کردار کم

 

بھول کر بھی لب پہ نام آتا نہیں اللہ کا

آج کل کوئی مسافر ہی نہیں اس راہ کا

 

ہر طرف بے برکتی ہر اِک کے ہونٹوں پر گِلہ

لگ گئی اس دور کو شائد کسی کی بدعا

 

یہ نہ مٹی کے نہ پتھر کے بتوں کا دور ہے

اپنے اپنے نفس کی پوجا پہ سارا زور ہے

 

کھیلتے ہیں آگ سے بارود پر بیٹھے ہیں ہم

واہ شانِ بے نیازی فکر ہے لیکن نہ غم

 

نظم یہ اپنی گِلہ ہے ناں شکایاتِ ستم

ہم نے جو دیکھا ورق پر کر دیا عرشیؔ رقم

…………………………………

 

 

Rate: 0